ٹرمپ کے مواخذے کی اصل محرک دیمو کریٹک سپیکر پلوسی نے پنیترا بدل لیا

ٹرمپ کے مواخذے کی اصل محرک دیمو کریٹک سپیکر پلوسی نے پنیترا بدل لیا

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی انکوائری شروع کرنے کا حکم ایوان نمائندگان کی ڈیمو کریٹک سپیکر نینسی پلوسی نے دیا تھا لیکن اس سارے مقدمے کی اصل محرک نے ڈرامائی طور پر پینترا بدل لیا۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ کے ساتھ ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہ ہے کہ اگرچہ وہ اب بھی سمجھتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کیلئے اہل نہیں ہیں لیکن ان کے مواخذے سے امریکہ پر بہت برا اثر پڑے گا۔ ان کا یہ بیاں ایسے مرحلے پر آیا ہے جب کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی اپنے سربراہ ایڈم شیف کی نگرانی میں انکوائری کیلئے شہادتوں کو مکمل کرکے سینکڑوں صفحات کی رپورٹ مرتب کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے بعد چوڈیشنری کمیٹی نے بھی 4 دسمبر سے اپنی انکوائری کے لئے شہادتیں حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جوڈیشری کمیٹی نے صدر ٹرمپ اور وائس ہاؤس کے اعلیٰ حکام کو دعوت دی ہے کہ وہ چاہیں تو کمیٹی میں آکر شہادتوں کی کارروائی دیکھ سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی تحریک پیش ہوتی ہے یا نہیں اور سینیٹ اس پر فیصلہ صادر کرتی ہے یا نہیں اس کے باوجود کانگریس کمیٹیوں کی تحقیقاتی رپورٹوں میں صدر کے خلاف الزامات کی توثیق ہوگئی تو اس کا صدر ٹرمپ کی ساکھ اور آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی پوزیشن پر بہت منفی اثرمرتب ہوسکتا ہے۔ سپیکر پلوسی نے اپنے انٹرویو میں واضح کہا ہے کہ صدر کا مواخذہ اس صورت میں ہونا چاہئے جب دونوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹیاں اس پر متفق ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مواخذے کو ری پبلکن پارٹی کی حمایت حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مواخذے کی کارروائی سے امریکی عوام تقسیم ہو کر رہ جائیں گے۔ بلاشک وہ سمجھتی ہیں کہ ٹرمپ ذہنی اور اخلاقی اعتبارسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اہل نہیں ہیں لیکن ان کا مواخذہ اس وقت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

نینسی پلوسی

مزید : صفحہ اول