وزیرقانون کا استعفی منظور، آرمی چیف نے کسی قسم کی یقین دہانی نہیں مانگی: فروغ نسیم

وزیرقانون کا استعفی منظور، آرمی چیف نے کسی قسم کی یقین دہانی نہیں مانگی: ...

  



اسلام آباد (این این آئی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے فروغ نسیم کا بطور وزیر قانون و انصاف کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ نوٹی فکیشن پر استعفے کی منظوری کی تاریخ 26 نومبر درج تھی۔کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر فروغ نسیم کا استعفیٰ منظور کیا۔دوسری جانب سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے احاطہ عدالت میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ فروغ نسیم جب عدالت کے احاطے میں پہنچے تو صحافی نے سوال کیا کہ آپ پرویزمشرف کے وکیل بن کر وزیرقانون بنے،اب کیا بننے جا رہے ہیں؟۔سابق وزیر قانون نے جواب دیا اللہ کی ذات بہت بڑی ہے، اس کے علاوہ میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ان سے سوال کیا گیا کہ کہا آپ کو اپنی غلطی کااحساس ہو گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ کون سی غلطی، ایسی بات نہ کریں، غلطی آپ نے کی ہے، میں نے نہیں۔سماعت میں وقفہ ہوا تو فروغ نسیم کو میڈیا نے ایک بار پھر گھیر لیا، ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ آپ کا لائسنس منسوخ ہے، آپ اس کے باوجود آ گئے ہیں،سابق وزیرقانون نے جواب میں کہا کہ لوگ اچھے ہیں، ان کی تعریف کرتا ہوں۔بعدازاں ایک انٹرویومیں سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف زبردست انسان ہیں وہ کسی قسم کی یقین دہانی نہیں مانگ رہے،حکومت نے ماضی کی طرح اب بھی آرمی چیف کی توسیع کی تھی، آرمی ایکٹ انگریز دور کا ہے کچھ چیزیں پرانی ہیں جبکہ ترامیم ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کی معاونت کررہے ہیں ججز کو مطمئن کرنے کی بھرپورکوشش کی ہے جبکہ اٹارنی جنرل ا نور منصور خان اور شہزاد اکبر کی معاونت سے تکنیکی خامیاں دور کرلی ہیں۔

استعفیٰ/فروغ نسیم

مزید : صفحہ اول