موسمیاتی جنگ شدت پکڑ گئی، روکانہ گیا تو دنیا تباہ ہو جائیگی: اقوام متحدہ کا انتباہ

موسمیاتی جنگ شدت پکڑ گئی، روکانہ گیا تو دنیا تباہ ہو جائیگی: اقوام متحدہ کا ...

  



پیرس(این این آئی) اقوام متحدہ نے گرین ہاؤس گیسز سے متعلق سالانہ جائزے میں کہا ہے کہ اگر فوری طور پر کوشش نہ کی گئی تو دنیا موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والی تباہی کو دور کرنے کا موقع کھودے گی۔ ان 10 سالوں میں معاشروں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور 2020 کو موسمیاتی جنگ میں تاریخی موڑ بننے کی ضرورت ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسز کا عالمی اخراج 2023 تک ہرسال 7.6 فیصد کم ہونا ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج گزشتہ ایک دہائی سے سالانہ 1.5 فیصد اوسط اضافہ ہوا جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 195 ممالک کی جانب سے پیرس معاہدے پر دستخط کے 3 سال بعد 2018 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا مساوی گرین ہاؤس گیسز کا اخراج 55.3 بلین ٹن کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ پیرس معاہدے میں ممالک نے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ اور ممکن ہو تو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا۔ پیرس معاہدے کو حالیہ طور پر مدنظر رکھ کر بھی دنیا درجہ حرارت میں 3.2 سینٹی گریڈ اضافے کی جانب گامزن ہے جس سے سائنسدانوں کو معاشرے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینگر اینڈرس نے کہا کہ ہم گرین ہاؤسز گیسز کے اخراج کے خاتمے میں ناکام ہورہے ہیں۔پیرس معاہدے میں ممالک کے لیے کوئلے کو مکمل طور پرختم کرنے، آئل اور گیس میں نمایاں کمی اور قابل تجدید توانائی میں اضافہ ہے۔رپورٹ کے مصنفین میں شامل جان کرسٹینسن نے کہا کہ اضافی تبدیلیاں آسانی سے نہیں ہوگی۔

موسمیاتی جنگ

مزید : صفحہ اول