عدلیہ نیشنل سکیورٹی معاملات دیکھے گی تو سسٹم کا بیلنس خراب ہوگا،فواد چوہدری

عدلیہ نیشنل سکیورٹی معاملات دیکھے گی تو سسٹم کا بیلنس خراب ہوگا،فواد ...

  



اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر فواد چودھری نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کے معاملے کا اثر پوری فوج پر پڑ رہا ہے، جنرل باجوہ کی توسیع پر سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ عدلیہ نیشنل سیکیورٹی کے معاملات دیکھے گی تو سسٹم کا بیلنس خراب ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر عدلیہ نیشنل سیکورٹی کو دیکھے گی تو یہ ایک بہت بڑی شفٹ ہوگی۔فواد چودھری نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں واضح ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار اور ان کی صوابدید ہے، امریکہ اور روس میں بھی نیشنل سیکیورٹی کا فیصلہ ایگزیکٹو کرتی ہے۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا جس کی کابینہ نے توثیق کی، تمام اداروں کو ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ اپوزیشن میں بھی اس معاملے پر دو رائے نہیں ہے۔ جنرل باجوہ کی توسیع پر سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ سابق آرمی چیف کیانی کی مدت ملازمت میں بھی توسیع اسی قانون کے تحت ہوئی۔

فواد چوہدری

افغان خفیہ ایجنسی بد اخلاقی سکینڈل بے نقاب کرنیوالے 2افرادکو فوری رہا کرے: امریکی سفیر

کابل(این این آئی)افغانستان میں امریکی سفیر جان باس نے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ہاتھوں دو افغان سماجی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان میں سماجی کارکنوں موسیٰ محمدی اور احسان اللہ نے صوبہ لوگر کے 6 اسکولوں میں 550 بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ بداخلاقی کو بے نقاب کیا تھا جس کے بعد افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے انہیں تحویل میں لے لیا۔افغان صدر نے این ڈی ایس کو ہدایت کی کہ کارکنوں کو وزارت داخلہ کے حوالے کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی حفاظت سیکیورٹی ایجنسیوں کا اہم فرض ہے۔معاملے پر این ڈی ایس نے پہلے خاموشی اختیار کی بعد میں کہا کہ کارکنوں کو حفاظت کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔این ڈی ایس کے اس اقدام کی جرمن سفیر، سابق افغان صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں مذمت کرچکی ہیں۔

امریکی سفیر

مزید : صفحہ اول