محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خزانے میں 2بلین سے زائد کے محاصل جمع کئے گئے: شوکت یوسفزئی

محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خزانے میں 2بلین سے زائد کے محاصل جمع کئے گئے: شوکت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے گزشتہ تین سالوں میں صوبائی خزانے میں دو بلین روپے سے زیادہ کے محاصل جمع کیئے۔ عوامی خدمات کی مد میں ڈرائیونگ لائسنس، روٹ پرمٹ،فٹنس سرٹیفکیٹ کے اجرا ء کو 180 دنوں کے بجائے اب 45 دنوں میں ممکن بنادیا ہے جس کو آن لائن ٹریکنگ سسٹم پر بھی ٹریک کیا جاسکتا ہے۔سیاحت کے فروغ کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ نے سیاحتی علاقوں میں خصوصی پرمٹس اور روٹس جاری کیے ہیں جبکہ چنگچی رکشوں کو بھی ریگولیٹ کیا جارہا ہے تاکہ چنگچی رکشہ مالکان کے لیے بھی آسانیاں ہو۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکلر ریل منصوبے کو بھی سی پیک منصوبے میں شامل کرلیا گیا ہے۔جبکہ قبائلی اضلاع میں پرمٹ، لائسنس وغیرہ کے اجرا کے لیے ون وینڈو اپریشن کے تحت مراکز قایم کیئے جا رہیں ہیں جہاں ایک چھت کے نیچے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان لائن ٹیکسی سروس کریم اور اوبر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بھی قانون سازی کی جارہی ہے جبکہ رینٹ اے کار کاروبار کو بھی ریگولیٹ کیا جا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سالانہ کارکردگی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کا 87 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے تکمیل کے بعد اس منصوبے کو بھی محکمہ ٹرانسپورٹ کے حوالے کیا جائے گا۔بی آر ٹی منصوبے کیلئے مسلم لیگ ن کی حکومت میں اکنک نے 49.34 بلین روپے کی منظوری دی جبکہ صوبائی حکومت نے 56.8 بلین روپے کا منصوبہ بنایا تھا۔ریوائز PCI میں بی آر ٹی کے لیے 66.43 بلین روپے کی منظوری ہوئی جس میں صوبائی حکومت کا حصہ 13.116 بلین اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور فرانس ایجنسی کا حصہ 53.211 بلین روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ لاہور بی آر ٹی سے اب بھی سستہ ہے کیونکہ لاہور بی آر ٹی کی بسیں ابھی تک کرائے پر ہے جبکہ پشاور بی آر ٹی کی بسیں اپنی لی ہوئی ہیں۔پشاور بی آر ٹی میں اضافی 68 کلو میٹر فیڈر روٹس شامل ہے جبکہ کوریڈور کے دونوں طرف سڑکوں کو بھی اسی منصوبے میں بنایا گیا ہے۔پشاور بی آر ٹی کی اصل لاگت 29 ارب روپے ہے جس میں 13 کلومیٹر لمبی ایلیویٹڈ، تین کلو میٹر انڈرپاسز بنائے گئے ہیں جبکہ پورا بی آر ٹی منصوبہ ماحول دوست بھی ہے۔منصوبے کو کارخانومارکیٹ تک توسیع دینے کی وجہ سے لاگت میں تین ارب روپے کا اضافہ ہوا لیکن ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے پختونخوا حکومت پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ منصوبے میں اس سے بچت ہوگئی تھی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سات اضلاع پشاور، ملاکنڈ، ایبٹ آباد، مردان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کے لئے موبائل وہیکل فٹنس سٹیشن بنائے جارہے ہیں جبکہ انہی اضلاع میں ایکسل لوڈ چیک کرنے کے لیے بھی موبائل weighing سٹیشن بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ار ٹی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اسی روڈ پر پرانی گاڑیوں کا پرمٹ منسوخ ہو جائے گا جس کے بعد گاڑی مالکان خود فیصلہ کریں گے کہ گاڑیاں دوسری روڈ پر لے جانے کے لیے پرمٹ مانگے یہ بی آر ٹی منصوبے کے حوالے کرے اب تک تقریباً 400 گاڑی مالکان نے بی آر ٹی سے اپنی گاڑیوں کو سکرپ کرنے کے لئے رجسٹریشن کی ہے۔

مزید : صفحہ اول