بدلتی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ

بدلتی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ

  



لاہور (میاں ہارون رشید سے) ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال کے باعث اپوزیشن جماعتوں نے ناراض حکومتی اتحادیوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان، بی این پی (مینگل) اور گرینڈڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کو قائل کریں کہ ملک میں سیاسی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہونیوالی سیاسی انتقام کی کارروائیاں بند کرائی جائیں۔ اس ضمن میں مسلم لیگ (ق) کے صدرچوہدری شجاعت حسین اور مرکزی رہنما چوہدری پرویزالٰہی پہلے ہی جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں انتہائی متحرک انداز میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے تیار ہوگئی ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف علاج کے سلسلے میں پہلے ہی لندن جا چکے ہیں جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی چند روز میں ریلیف مل سکتا ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اس بات پر قائل ہیں کہ وہ کسی صورت میں ملک کے اندر جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گی اور اس کے یکطرفہ احتساب کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کو تیز کیا جائے اوران کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ وہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کی جانب سے اپنے اہم رہنماؤں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف عوام کے سامنے مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر عوامی ایشوز کو ہائی الائٹ کریں بلکہ ایم کیو ایم پاکستان، بی این پی (مینگل) اور جی ڈی اے کو بھی اس بات پر قائل کیا جائے کہ اگر وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو اس کا سیاسی نقصان مستقل میں ان جماعتوں کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ایک اجلاس میں یہ بات بھی زیرغور آئی ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان، بی این پی (مینگل) اور جی ڈی اے اگرکوئی بڑا فیصلہ کرتی ہے تو اس صورتحال میں ان ہاؤس تبدیلی کیلئے کیا لائحہ عمل طے کیا جائے، تاہم دو بڑی اور اہم سیاسی جماعتیں اس وقت ان ہاؤس تبدیلی کیلئے تیار نہیں ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام وزیراعظم کے استعفے اور فوری الیکشن کے مطالبے پر قائم ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مستقبل قریب میں ان رابطوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ریلیف ملنے کے آثار نمایاں ہو جائیں گے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی انتہائی متحرک ہیں اور ان کی جانب سے حکومت کو مشورہ بھی دیا جا چکا ہے کہ وہ دیگر ایشوز کو چھوڑ کر ملک کی معاشی صورتحال پر توجہ دیں اور عوام کی حالت زار میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کریں۔

اپوزیشن رابطے

مزید : صفحہ اول