منظم کارروائی کے تحت کشمیر یوں کا نسلی ومعاشی قتل عام کیا جارہا ہے

منظم کارروائی کے تحت کشمیر یوں کا نسلی ومعاشی قتل عام کیا جارہا ہے

  



 اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستا ن علی امین خان گنڈا پور نے مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے قابل مذمت اقداما ت کو 114دن گزر چکے ہیں لیکن بھارتی حکومت کشمیریوں کے احتجاج اور مزاحمت کے خوف سے اب بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو کا سہارا لیے ہوئے ہے جس سے بھارتی حکومت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو کچلنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ بھارت کی حکومت یہ بھول چکی ہے کہ ان غیور اوربہادر کشمیریوں نے پچھلی سات دہائیوں سے اپنی آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا ہے اور آج کے کشمیری نوجوان اپنے آباؤاجداد سے بھی آگے بڑھ کر اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پرُ عزم نظر آتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہاکہ کشمیریوں کے عزم کااس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ نو لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں پاکستان سے وابستگی کے اظہار کے لیے سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں اور اپنے شہدا کو سبزہلالی پرچم میں سپرد خاک کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کا یہ عزم اور پاکستان سے محبت کا اظہار ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی بھر پور حمایت کریں اور اُن کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کریں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے تو اس نے مسئلہ کشمیر کو اپنی متحرک سفارت کاری کی بدولت عالمی سطح پر بھر پور انداز سے اجاگرکردیا ہے اور آج دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی بات ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس جدوجہد کو اگے بڑھاتے ہوئے عالمی برادری کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ اپنے ذاتی معاشی وسیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کے اس دیرینہ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔علی امین خان گنڈا پور نے کہاکہ دُنیا کو مقبوضہ کشمیر کے حالات کا فوری نوٹس لینا چاہیے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تر انسانی حقوق کے اداروں کا داخلہ بند ہے اور ایک منظم کاروائی کے تحت کشمیریوں کا نسلی و معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک بھارتی جنرل کی جانب سے حق خودارادیت کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے کشمیری عورتوں کی عصمت دری کو جائز قرار دینے کے انتہائی قابل مذمت بیان سے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کی آنکھیں کھل جانی چاہیں کہ بھارت اپنے ہندو انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آو آئی سی ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی جیسے قابل مذمت واقعے اور مسلم امہ کو درپیش مسئلہ کشمیر و فلسطین جیسے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ایک متحرک کردار اداکرنا چاہیے۔

 علی امین گنڈا پور

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر