اپنا بوجھ خود اٹھائیں،ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟چیف جسٹس کا حکومتی سمری سے عدالت کا نام نکالنے کا حکم

اپنا بوجھ خود اٹھائیں،ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟چیف جسٹس کا حکومتی ...
اپنا بوجھ خود اٹھائیں،ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟چیف جسٹس کا حکومتی سمری سے عدالت کا نام نکالنے کا حکم

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سمری سے عدالت کا نام نکالنے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس پاکستا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کانام استعمال کیاگیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں،اپنا بوجھ خود اٹھائیں،ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں اس کا جائزہ لیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل انور منصور خا ن نے کہا کہ دستاویزات کچھ دیر میں پہنچ جائیں گی ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ نئی تعیناتی آرٹیکل 243 کے سیکشن ”ون “بی کے تحت کی گئی ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں مطمئن کرناہوگااب ہونے والی تعیناتی کیسے درست ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا ذکر کردیا گیا ہے،چیف جسٹس نے سمری سے عدالت کا نام نکالنے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس پاکستا ن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کانام استعمال کیاگیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں،اپنا بوجھ خود اٹھائیں،ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں اس کا جائزہ لیں گے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ آئینی ہے،اس عہدے کو پر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو سمری پیش کی گئی ہے اس میں تنخواہ اورمراعات کا ذکر نہیں،اس معاملے کو دیکھنا ہوگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم ابھی تک فوج میں 1947 کی روایات لے کر چل رہے ہیں،بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے،

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد