آپ نے سمری میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے،اگر بہت اچھا بندہ مل جائے تو کیا اس کی مدت ملازمت میں ایسے ہی لکھیں گے؟سپریم کورٹ

آپ نے سمری میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے،اگر بہت اچھا بندہ مل جائے تو کیا اس ...
آپ نے سمری میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے،اگر بہت اچھا بندہ مل جائے تو کیا اس کی مدت ملازمت میں ایسے ہی لکھیں گے؟سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے،اگر بہت اچھا بندہ مل جائے تو کیا اس کی مدت ملازمت میں ایسے ہی لکھیں گے؟آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں،جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے،تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے،اگر بہت اچھا بندہ مل جائے تو کیا اس کی مدت ملازمت میں ایسے ہی لکھیں گے؟آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں،جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے،تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں ،صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 3سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ،اتنے بڑے آفس کی تعیناتی ہورہی ہے قواعد پرعمل کرنا ہوگا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال کا لفظ لکھا ہے،اب ہرکوئی مستقبل میں ایسا ہی لکھے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے جو سمریاں جاری کی گئی تھیں ان میں مدت ملازمت لکھی ہوتی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے معاملے پرکل آپ واضح نہیں تھے؟چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ اس معاملے پرابہام دور کرنے کا فورم کون سا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابہام دور کرنے کا فورم وفاقی حکومت ہے،اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہو گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا کر رکھی ہے،آرمی رولز کی کتاب پر لکھا ہے غیر متعلقہ شخص نہ پڑھے،آئین کی کتاب ہمارے لیے بہت محترم ہے،اسی کتاب سے ہم مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ آئین کی کتاب ملک کیلئے بائبل کی حیثیت رکھتی ہے،سمری میں تنخواہ،مراعات اورمدت ملازمت واضح کردیں گے،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا،کوئی دیکھ نہیں رہاکہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد