سپریم کورٹ نےفوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کیلئے چھ ماہ کا وقت دینے پر رضامندی ظاہر کردی

سپریم کورٹ نےفوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کیلئے چھ ماہ کا وقت ...
 سپریم کورٹ نےفوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کیلئے چھ ماہ کا وقت دینے پر رضامندی ظاہر کردی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران  پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو فوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینے پر رضامندی ظاہر کردی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔جس پر عدالت نے 6ماہ کیلئے توسیع دینےپر مشروط رضامندی ظاہر کردی۔ْ

اٹارنی جنرل نے کہانیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔سینئر صحافی صابر شاکر کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا ہم پھنس چکے ہیں فی الحال آپ اس فیصلے کو برقرار رکھیں اور قانون سازی کا وقت بھی دیں۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں،گزشتہ 3 آرمی چیف میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں،اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جارہی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی