” آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں بلکہ۔۔۔“چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی ایک اور کمزوری پکڑ لی

” آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں بلکہ۔۔۔“چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل ...
” آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں بلکہ۔۔۔“چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی ایک اور کمزوری پکڑ لی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران کئی اہم قانونی نکات واضح ہوئے۔کئی مقامات پر عدالت عظمیٰ نے سرکاری وکلا کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں اٹارنی جنرل کی جانب سے آرمی چیف کی توسیع کو روائتی قرار دیا جانا بھی شامل ہے۔

گزشتہ دوروز سے حکومت کی جانب سے یہ موقف پیش کیاجاتا رہا کہ آرمی چیف کی توسیع دراصل ایک آئینی روایت ہے جس پر عدالت نے واضح کردیا ہے کہ یہ آئینی روایت نہیں ہے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا آرمی چیف کو توسیع دیناآئینی روایت نہیں،گزشتہ 3 آرمی چیف میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں،اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جارہی ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہاآئین کو بار بار پڑھتے ہیں تو نئی چیز کھل جاتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم تو پہلی بار پڑھتے ہیں تو کچھ نکل آتا ہے۔اٹارنی جنرل انورمنصورنے استدعا کی کہ عدالت ان الفاظ کو حذف کردے جس پرچیف جسٹس نے کہ آپ تو کہتے ہیں کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران  پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو فوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے اور حکومت سے چار نکات پر تحریری بیانات طلب کئے ہیں۔

مزید : قومی