" آئین میں مجموعی طورپر کتنی غلطیاں ہیں ؟"آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بڑا دعویٰ کردیا

" آئین میں مجموعی طورپر کتنی غلطیاں ہیں ؟"آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس ...

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دعویٰ کیاکہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں، آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے،اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب میں کہاکہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویزکے،کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عدالت کاکندھا استعمال نہ کریں آئندہ بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہو گا،آرٹیکل 243میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہاں مدت کا ذکر نہ ہو وہاں حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ لگتا ہے تعیناتی کےوقت حکومت نے آرٹیکل 243 پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد