حکومتی مشینری میں جوڑ توڑ، اب وزیراعلیٰ بزدار کے پرفارم کرنے کا وقت بھی آ گیا ؟

حکومتی مشینری میں جوڑ توڑ، اب وزیراعلیٰ بزدار کے پرفارم کرنے کا وقت بھی آ گیا ...
حکومتی مشینری میں جوڑ توڑ، اب وزیراعلیٰ بزدار کے پرفارم کرنے کا وقت بھی آ گیا ؟

  



لاہور( نسیم شاہد) اب اگر ہم اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ پنجاب میں نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی آ گئے ہیں تو یہ ہماری معصومیت ہے۔یہ افسر کوئی مریخ سے نہیں آئے،یہیں پنجاب میں کئی برسوں تک تعینات رہے ہیں اور غالباً اُسی نظام کا حصہ بھی، جسے بدلنے کے لئے انہیں تعینات کیا گیا ہے۔ اصل معاملہ یہ نہیں،معاملہ تبدیلی لانے کا ہے،جس کے لئے ایک سیاسی عزم چاہئے۔

افسروں کے ذریعے بڑے محدود پیمانے پر تبدیلی آ سکتی ہے، کیونکہ اُن کے کہیں نہ کہیں پَر جلنے لگتے ہیں،انہیں بہت سے لوگوں کو خوش بھی رکھنا ہوتا ہے،جو حکمرانوں کے کان بھرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پنجاب میں تبدیلی لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاور سٹرکچر کو تبدیل کیا جائے۔یہ کام آسان نہیں،شہباز شریف جیسا دبنگ وزیراعلیٰ بھی صرف اپنی حد تک تبدیلی لا سکا۔جہاں خود نوٹس لیتے، خود پہنچ جاتے،تھوڑا بہت انصاف مل جاتا، وگرنہ معاملہ ”ڈھاک کے تین پات“ میں کی صورت موجود رہتا۔عثمان بزدار تو یہ بھی نہیں کرتے،اگر ایک دو بار کِیا بھی تو تنقید کا نشانہ بن گئے کہ شہباز شریف کی نقل کر رہے ہیں۔

اب انہیں صوبے کے دو بڑے افسر نئے دیئے گئے ہیں،کیا ان افسروں کے آنے سے پنجاب میں تبدیلی آ جائے گی؟…… چیف سیکرٹری اعظم سلیمان نے اعلان تو کیا ہے کہ اب کسی نااہل اور کرپٹ کو صوبے میں برداشت نہیں کیا جائے گا، لیکن یہ بڑھک تو ہر افسر مارتا ہے،پھر اُنہی کے رنگ میں رنگا بھی جاتا ہے۔ اعظم سلیمان تو پنجاب کے سیکرٹری داخلہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی رہے ہیں،اُن سے کون سی چیز چھپی ہوئی ہے،لیکن اتنا وہ بھی جانتے ہیں کہ پنجاب میں گڈ گورننس لانا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

انتظامی افسر آج کل جس قدر بے لگام ہو چکے ہیں، شہباز شریف کے دور میں نہیں تھے،اب تو ڈپٹی کمشنر واقعی انگریزی کے دور کا ڈپٹی کمشنر بنا ہوا ہے۔عوام کے مسائل سے دور اور صرف مال بنانے کی دلچسپی میں مگن……پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی صحیح معنوں میں کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے کاسہ لیس بنے ہوئے ہیں،جن کا عوامی مسائل سے دور کا واسطہ بھی نہیں رہ گیا۔

کسی بھی صوبے کے وزیراعلیٰ کو دو انتظامی افسروں نے چلانا ہوتا ہے۔ اول چیف سیکرٹری اور دوم آئی جی پولیس۔یہ دو افسر اچھے مل جائیں اور وزیراعلیٰ میں کام کرنے کی لگن بھی ہو تو صوبہ آئیڈیل بن سکتا ہے،مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ان افسروں کی وزیراعلیٰ سے نہیں بنتی یا وزیراعلیٰ کی ان افسروں سے انڈرسٹینڈنگ قائم نہیں ہوتی۔

حالیہ مثال سندھ کی ہے،جہاں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور آئی جی کلیم امام میں ٹھنی ہوئی ہے،حتیٰ کہ وزیراعلیٰ نے یہ الزام تک لگا دیا کہ دہشت گرد وحید ٹھیلے والا کے منہ میں یہ بیان پولیس نے جان بوجھ کر ڈالا کہ اُسے گرفتار کیا گیا تھاتو وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ملنے آئے تھے۔وزیراعلیٰ نے اس پر انکوائری کا حکم دیا تو پولیس کو اپنی پڑ گئی۔جہاں انڈرسٹیڈنگ کا عالم یہ ہو وہاں ایک مثالی حکومت کیسے قائم ہو سکتی ہے؟پنجاب میں تو عثمان بزدار کو شروع دن سے بیورو کریسی نے عدم تعاون کا شکار کر رکھا ہے۔خود وزیراعلیٰ وزیراعظم سے یہ شکایت کر چکے ہیں کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی اُن کی بات نہیں سنتے، افسروں کو بھی حکم ماننے سے منع کر رکھا ہے۔

یہ بات حیران کن لگتی ہے، خاص طور پر شہباز شریف اور چودھری پرویز الٰہی جیسے وزرائے اعلیٰ کو ذہن میں لائیں تو یقین نہیں آتا،کوئی افسر وزیراعلیٰ کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے۔یہ ڈانڈے وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے ہوئے اُن کے پرنسپل سیکرٹری سے ملتے رہے کہ انہوں نے افسروں کو ہدایات وزیراعلیٰ ہاؤس کی بجائے وزیراعظم ہاؤس سے لینے کا حکم دے رکھا ہے۔

معاملہ صرف اکیلے عثمان بزدار کا نہیں،جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار تگڑے کیوں نہیں ہوتے؟وہ اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں کہاں کہاں سے کمزور رکھا گیا ہے؟ خود کپتان کو بھی اِس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ معاملات زیادہ عرصے اس طرح نہیں چل سکتے۔پنجاب کی ناکامی پورے سسٹم کو ناکام بنانے پر تلی ہوئی ہے؟ تو انہوں نے پنجاب پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک بات پتھر پر لکیر ہے کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے،پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔یہ کپتان کا ایک ایسا وعدہ ہے، جس پر وہ کبھی یوٹرن نہیں لیں گے،جن لوگوں کو عثمان بزدار کی وزیراعظم خان سے پے در پے دو ملاقاتوں کے بعد یہ غلط فہمی ہوئی کہ پنجاب میں اقتدار تبدیل ہونے جا رہا ہے،وہ اس حقیقت کو فراموش کر گئے کہ جسے تبدیل کرنا ہو، اُس سے بار بار ملاقات نہیں کی جاتی،اُسے تو دور رکھا جاتا ہے۔

کپتان نے عثمان بزدار کو گلے سے لگا رکھا ہے۔ وہ کوئی ایسا رسک نہیں لینا چاہتے کہ عثمان بزدار جیسے تابعدار اور مؤدب وزیراعلیٰ کی جگہ کسی ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنا دیں جو اپنی من مانیاں کرتا پھرے جو خوبی عثمان بزدار میں ہے، وہ عمران خان کو کسی دوسرے میں دور دور تک نظر نہیں آتی،اسی لئے عثمان بزدار کا پنجاب کے تخت پر قبضہ مضبوط ہے۔اب رہی بات کہ پنجاب کو درست کیسے کیا جائے؟خاص طور پر صوبے میں مہنگائی کے عذاب اور عوام کو پولیس گردی سے کیسے بچایا جائے؟

اس کے لئے وزیراعظم عمران خان نے اپنے تئیں دو بہترین انتظامی افسر عثمان بزدار کو دیئے ہیں۔یقینا انہیں ساری غرض و غائیت بھی سمجھا دی ہو گی اور یہ ٹاسک بھی دیا ہو گا کہ صوبے میں عثمان بزدار کے تشخص کو بہتر بنانے کے لئے باہمی مشاورت سے کام کیا جائے۔یہ توقع بے جا نہیں کہ آنے والے دِنوں میں خاصی سختی نظر آئے گی۔ افسروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے سخت اقدامات دیکھنے میں آئیں گے۔

پولیس کے حالات بہتر بنانے کے لئے روایتی اقدامات سے ہٹ کر کچھ فیصلے کئے جائیں گے۔صوبے میں بڑے پیمانے پر افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔یہ سب کچھ کافی نہیں ہو گا، ایسا تو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔اصل کام یہ ہے کہ احتساب کا شکنجہ سخت کیا جائے،جو کام نہیں کرتا، جس کی شہرت اچھی نہیں،جو رشوت و بدعنوانی کا چیمپئن ہے،وہ کم از کم فیلڈ ڈیوٹی میں نظر نہیں آنا چاہیے۔

ابھی چند روز پہلے خبر آئی تھی کہ لاہور پولیس میں 167 کے قریب ایسے اہلکار اور افسر موجود ہیں، جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں،مگر وہ ڈیوٹیوں پر موجود ہیں اور نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔کسی دفتر میں چلے جائیں،ہر سرکاری اہلکار فرعون بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اُس پر جو افسر تعینات ہے،اس کی روزی روٹی ماتحت کی کرپشن پر چلتی ہے۔وہ اُسے کیسے روک سکتا ہے؟ہر کرپٹ کے پیچھے ایک پورا سیاسی مافیا سرپرستی کے لئے موجود ہوتا ہے۔

ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار اگر صوبے کے ان دو نئے افسران کو یہ ٹاسک دیتے ہیں کہ وہ صوبے میں گڈ گورننس لائیں،اُن پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں آئے گا اور وہ واقعی ایسا کر گذرتے ہیں تو پنجاب ایک آئیڈیل صوبہ بن سکتا ہے۔یہ تو معلوم نہیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی وزیراعظم عمران خان سے دو دِنوں میں جو دو ملاقاتیں ہوئیں،اُن میں انہیں کیا کہا گیا؟ تاہم کپتان نے یہ ضرور کہا ہو گا، ”عثمان بزدار اب پرفارم کرنے کا وقت آ گیا ہے“۔

کپتان نے یہ بات اس لئے بھی کہی ہو گی کہ پنجاب کی وجہ سے انہیں بہت سی باتیں سننا پڑ رہی ہیں۔خود پارٹی کے اندر،کابینہ میں بیٹھے ہوئے لوگ انہیں پنجاب میں تبدیلی لانے کی دہائی دے رہے ہیں،مگر کپتان وہ تبدیلی تو نہیں لائیں گے،جو کچھ لوگوں کی خواہش ہے،یعنی عثمان بزدار کو تبدیل کرنے والی تبدیلی، البتہ وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ پنجاب کے اندر ایک اچھی حکمرانی نظر آئے،اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے اعتماد کے ایک بہترین افسر کو چیف سیکرٹری بنا کر لاہور بھیجا ہے، دیکھتے ہیں صوبے کو چلانے کے لئے بنائی جانے والی یہ نئی تثلیث کپتان کی امیدوں پر پورا اترتی ہے یا پھر بات اسی نکتے پر آ کر رُک جاتی ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل کئے بغیر پنجاب میں گڈ گورننس نہیں آ سکتی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور