" عدالت نے پہلا نوٹیفکیشن معطل نہیں کیا لیکن اس پر قدغن لگا دیا ہے کہ ۔ ۔ ۔" عدالتی رپورٹرعبدالقیوم صدیقی نے سارا نقشہ کھینچ دیا

" عدالت نے پہلا نوٹیفکیشن معطل نہیں کیا لیکن اس پر قدغن لگا دیا ہے کہ ۔ ۔ ۔" ...

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالتی رپورٹرعبدالقیوم صدیقی نے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے جو نوٹی فکیشن جمع کرایا ہے وہ معطل نہیں کیا بلکہ اس پر قدغن لگا تے ہوئے مدت ملازمت میں توسیع کا عرصہ تین سال کے بجائے چھ ماہ کردیا۔

عبدالقیوم کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہم نے اٹارنی جنرل کے ذریعے آرمی چیف کی تقرری اور توسیع سے متعلق چیلنج کئے گئے امور کا جائزہ لیااور اس ضمن میں اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لیا۔عبدالقیوم نے کہا عدالت نے مختصر فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اس نے آرمی ایکٹ آرمی رولز سمیت تمام قوانین کا جائزہ لیا ہے اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس میں ان کی توسیع یا مدت ملازمت سے متعلق کچھ ہو۔عدالے نے کہا وفاقی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، تقرری کے حوالے سے قانون ہی موجود نہیں ہے۔عبدالقیوم کے مطابق سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ جو نوٹی فکیشن پیش کیاگیاہے وہ آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ قانون میں تین سالہ مدت کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں ہے۔عدالت نے کہا وہ ملٹری کمانڈ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے ۔

عبدالقیوم کے مطابق عدالت نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کے پیش کردہ نوٹیفکیشن کو مسترد نہیں کرتا البتہ اس پر قدغن لگائی کہ کیونکہ حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت ملازمت اور توسیع سے متعلق کچھ نہیں ہے اس لئے پر قدغن لگا کر توسیع کی مدت تین سال سے کم کرکے چھ ماہ کردی اور باقی مدت کے تعین کا فیصلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا ہے۔

مزید : قومی