کیا اب دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی؟حامد میر بھی بول اٹھے

کیا اب دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی؟حامد میر بھی بول اٹھے
کیا اب دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی؟حامد میر بھی بول اٹھے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کیااب دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی ؟ اہم سوال پر سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ سپریم کورٹ آرٹیکل دوسوتینتالیس پر جائے گی,ریگولیشنزسے معاملہ حل نہیں ہوگا، معاملہ پارلیمنٹ پر آئے گا اور آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی۔انہوں نے کہا دوتہائی اکثریت کیلئے اپوزیشن تو مان جائے گی سوال یہ ہے کہ کیا حکومت تعاون والا رویہ اختیارکرے گی؟

حامد میر کے مطابق مسلم لیگ ن اس معاملے پر ایسا کوئی کردار اادانہیں کرے گی جس سے یہ لگے کہ وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی مخالف ہے۔شہباز شریف سمیت ن لیگ کے اہم رہنما پارلیمنٹ میں جنرل باجوہ کی توسیع کو بھرپور سپورٹ کریں گے۔پیپلز پارٹی میں بھی معاملہ گڑ بڑ نہیں ہے لیکن کیونکہ ان کے رہنما مشکل میں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس پر کچھ سوال جواب کریں۔انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان بھی براہ راست مخالفت نہیں کریں گے۔انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اپوزیشن کی جانب سے تو تعاون کی توقع ہے سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ایسا رویہ اختیارکرپائے گی جس سے معاملہ سلجھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ٹویٹس اورشیخ رشید کے بیان سے لگتا ہے کہ شاید وہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن بھڑکے۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس