”شایدوزیراعظم جان بوجھ کر اپوزیشن کو اشتعال دلاناچاہتے ہیں کہ وہ جنرل باجوہ کا راستہ روکے “ حامد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ آرمی چیف بھی دنگ رہ جائیں گے

”شایدوزیراعظم جان بوجھ کر اپوزیشن کو اشتعال دلاناچاہتے ہیں کہ وہ جنرل باجوہ ...
”شایدوزیراعظم جان بوجھ کر اپوزیشن کو اشتعال دلاناچاہتے ہیں کہ وہ جنرل باجوہ کا راستہ روکے “ حامد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ آرمی چیف بھی دنگ رہ جائیں گے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حامد میر کاخیال ہے کہ سپریم کورٹ سے معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوائے جانے کے بعد وزیراعظم اپوزیشن کو اشتعال دلارہے ہیں اورانہیں شایدیہ بھی اندازہ ہے کہ اپوزیشن جنرل باجوہ کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ،وزیراعظم کے ٹوئیٹس اور شیخ رشید کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ پریشان ہیں افسوس ہوا کہ معاملہ حل کی طرف کیوں جارہاہے یا پھر وزیراعظم کو ابھی تک اس سارے معاملے کی سمجھ نہیں آئی۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعدنجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کاکہناتھاکہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تازہ صورتحال میں کیا حکومت کی طرف سے اس ماحول کو سازگار بنانے کے لیے کوئی اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ پارلیمان میں معاملات آگے چل سکیں؟وزیراعظم کے ٹوئیٹ سے پہلے شیخ رشید نے کہاکہ مسلم لیگ ن والے ہاتھ جوڑ کر ترمیم کریں گے ، اپوزیشن جو کہ تین دن سے خاموش تھی اور مولانافضل الرحمان سمیت کسی اپوزیشن پارٹی نے اس معاملے پر سیاست نہیں کی، آپ اس کو سراہ نہیں رہے ،

وزیراعظم کے ٹوئیٹ اور ان کے کچھ وزراءکے بیانات سے مجھے افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لگتا ہے کہ سپریم کورٹ ملک کو آئینی بحران سے نکالنے کی کوشش کررہی ہے لیکن وزیراعظم کی ٹوئیٹ اور شیخ رشید کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو اشتعال دلارہے ہیں اورچاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس معاملے میں پارلیمنٹ میں کوئی مثبت کردار ادا نہ کرے ، ہوسکتا ہو کہ وزیراعظم کو ابھی تک اس سارے معاملے کی سمجھ نہیں آئی ہو۔ان کاکہناتھاکہ اب مسئلہ یہ ہے کہ خدا خد ا کرکے معاملہ ایک حل کی طرف آیا، اب پارلیمنٹ کو کردار اداکرنا ہے کہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے طے کردے، اس کے لیے وزیراعظم کو اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے ، گستاخی معاف لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو اشتعال دلارہے ہیں یا پھر سمجھ ہی نہیں پارہے ۔

حامد میر کا مزید کہناتھاکہ اب سارے معاملے پر بات کرنا کوئی مشکل نہیں، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عدالت 243پر جائے گی ، ریگولیشنزسے معاملہ حل نہیں ہوگا، معاملہ پارلیمنٹ پر آئے گا اور آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی ، اس معاملے میں اپوزیشن کا کردارکا اہمیت اختیار کرگیا لیکن میری اطلاع کے مطابق ن لیگ اس معاملے پر کوئی ایسا کردار ادا نہیں کرے گی جس سے لگے کہ وہ باجوہ کی توسیع کی مخالف ہے ، شہبازشریف سے نیچے تک ، پارلیمنٹ میں جن لوگوں کا کردار اہم ہے ، وہ سپورٹ کریں گے ، پی پی میں بھی معاملہ اتنا گڑبڑنہیں ہے لیکن بہت سے رہنما چونکہ پرابلم میں ہیں، وہ شاید تھوڑی سی بحث کریں، مولانا کے کچھ سینیٹرز اور ایم این ایز بھی اس معاملے میں وہی کریں گے جو ن لیگ کرے گی ۔

مزید : قومی