30 سالہ نوجوان لڑکی جو اب کبھی کھانا نہیں کھا سکے گی

30 سالہ نوجوان لڑکی جو اب کبھی کھانا نہیں کھا سکے گی
30 سالہ نوجوان لڑکی جو اب کبھی کھانا نہیں کھا سکے گی

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بعض امراض میں مریض کو کچھ مخصوص اشیاءکھانے سے تو روک دیا جاتا ہے لیکن آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ ایک برطانوی لڑکی ایسے مرض میں مبتلا ہو گئی ہے کہ آئندہ زندگی میں وہ کچھ بھی کھا سکے گی اور نہ پی سکے گی۔ میل آن لائن کے مطابق اس 30سالہ لڑکی کا نام جیما لیوی ہے جو لندن کی رہائشی ہے۔ اسے ایلرز ڈینلوس (Ehlers Danlos)نامی بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے اس کا پورا نظام ہضم مفلوج ہو چکا ہے اور منہ سے پانی کا ایک گھونٹ پینا بھی اسے انتہائی تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

ایلرز ڈینلوس دراصل ایک جینیاتی بیماری ہے جو ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں سے بچے میں منتقل ہوتی ہے۔ جیما میں اس بیماری کے آثار 12سال کی عمر سے نمودار ہونے شروع ہوئے اور اسے کھانے پینے میں تکلیف ہونے لگی۔ اب اس کا مرض اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پی سکتی۔ ڈاکٹروں نے اسے خوراک کی نالیاں لگا دی ہے اور دن میں 22گھنٹے اسے یہ نالیاں لگی رہتی ہیں اور ان سے اس کا جسم خوراک حاصل کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ باقی تمام عمر اسے ان ٹیوبز کے ساتھ ہی گزارنی ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق جیما لیوی شادی شدہ ہے اور اس کا 31سالہ شوہر الیکس گھر میں اس کی دیکھ بھال کرتاہے، جبکہ اس کا زیادہ تر وقت ہسپتالوں میں ہی گزرتا ہے۔ جیما کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ”میں نے اپنی تمام عمر ہسپتالوں میں آپریشن کراتے اور گھر میں صوفے پر لیٹے گزاری ہے۔ مجھے 22گھنٹے ڈرپ مشین کی ٹیوبز لگی رہتی ہیں اور مجھے مسلسل قے آتی رہتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میری بیماری بہت سنگین ہے لیکن یہ بیماری مجھے شکست نہیں دے سکتی۔ میں پرعزم ہوں کہ ایک دن میں اس بیماری کو ہرا دوں گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس