کتنے عرصے بعد بچوں کو سکول جانے کی ضرورت نہ رہے گی، دماغ میں موجود کمپیوٹر آپ کو فوری سب کچھ سکھا دے گا؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا

کتنے عرصے بعد بچوں کو سکول جانے کی ضرورت نہ رہے گی، دماغ میں موجود کمپیوٹر آپ ...
کتنے عرصے بعد بچوں کو سکول جانے کی ضرورت نہ رہے گی، دماغ میں موجود کمپیوٹر آپ کو فوری سب کچھ سکھا دے گا؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آج سالہا سال کی تعلیم کے بعد کوئی شخص ڈاکٹر، انجینئر یا کچھ اور بن پاتا ہے لیکن مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ایک ماہر نے اس حوالے سے ایسا حیران کن دعویٰ کر دیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ دی سن کے مطابق Fountech.ai کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نکولس کائرینوس کا کہنا ہے کہ ”آئندہ 20سال کے دوران ’گوگل برین امپلانٹ‘ کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور ہر شخص جو کچھ سیکھنا چاہے گا منٹوں میں سیکھ لے گا۔“

رپورٹ کے مطابق نکولس کا کہنا تھا کہ ”مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی ہو چکی ہے کہ اب یہ ہماری زندگیوں کو یکسر تبدیل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بہت جلد جب گوگل برین امپلانٹ شروع ہو جائے گا تو دنیا کا کوئی بھی شخص کچھ بھی بن سکے گا اور کسی کو سکول جانے کی ضرورت نہ ہو گی، نہ ہی کسی کو کوئی یاد زبانی یاد کرنے کی ضرورت باقی رہے گی۔ لوگوں کو کمپیوٹر پر بھی کچھ ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ ان کے دماغ میں نصب کی گئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی خود بخود انہیں ہر سوال کا جواب دیتی رہے گی۔ اس امپلانٹ کے بعد آپ کا اپنا دماغ ’گوگل‘ بن جائے گا اور جو کچھ آپ گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں وہ سب کچھ آپ کے دماغ میں موجود ہو گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس