ایچ آئی وی کا شکار لوگوں کے لئے نطفے ذخیرہ کرنے والا بینک کھول دیا گیا

ایچ آئی وی کا شکار لوگوں کے لئے نطفے ذخیرہ کرنے والا بینک کھول دیا گیا
ایچ آئی وی کا شکار لوگوں کے لئے نطفے ذخیرہ کرنے والا بینک کھول دیا گیا

  



ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایچ آئی وی کا ایسا خوف لوگوں کے دلوں میں موجود ہے کہ اس کے شکار شخص کے قریب بیٹھنا بھی کوئی گوارا نہیں کرتا۔ اب لوگوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے نیوزی لینڈ میں دنیا کا پہلا ایسا بینک بنا دیا گیا ہے جس میں ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کے سپرمز محفوظ کیے جائیں گے اور وہاں سے کوئی بھی خاتون ان سپرمز کا عطیہ لے کر بچہ پیدا کر سکے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بینک تین فلاحی تنظیموں نیوزی لینڈ ایڈز فاﺅنڈیشن، پازیٹو ویمن اور باڈی پازیٹو نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ”اب تک تین ایچ آئی وی متاثرہ مرد اس بینک میں اپنے نطفے جمع کروا چکے ہیں۔ ان تینوں میں یہ وائر س انتہائی غیر مو¿ثر ہے اور اس کے آگے ان کے بچوں میں منتقل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔“

تنظیموں کا کہنا تھا کہ ”ہر کوئی سمجھتا ہے کہ ایچ آئی وی کے متاثرہ شخص کا وائرس علاج کے باوجود بھی اس کی نسل میں منتقل ہوتا ہے۔ ہم اس بینک کے ذریعے دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگ بھی صحت مند بچوں کے ماں باپ بن سکتے ہیں۔ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ کامیاب علاج کے ذریعے ان لوگوں میں موجود وائرس کو اگلی نسل تک منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس