آرمی چیف کی ایکسٹینشن کیلئے کس قانون میں ترمیم کرنا ہوگی، کیا اپوزیشن کی ضرورت پڑے گی؟ صحافی کامران خان نے بتادیا

آرمی چیف کی ایکسٹینشن کیلئے کس قانون میں ترمیم کرنا ہوگی، کیا اپوزیشن کی ...
آرمی چیف کی ایکسٹینشن کیلئے کس قانون میں ترمیم کرنا ہوگی، کیا اپوزیشن کی ضرورت پڑے گی؟ صحافی کامران خان نے بتادیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن کامران خان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے پارلیمان سے سادہ اکثریت کے ساتھ منظور کرانا ہوگا، اس بات کاقوی امکان ہے کہ جنرل باجوہ 2023 تک آرمی چیف رہیں گے۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کامران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ کی توسیع کے حوالے سے تین دن سے جو ہیجان برپا تھا وہ آج بہت ہی خوشگوار انداز میں ختم ہوگیا۔ سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کو 6 مہینے کی توسیع دے دی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ اس حوالے سے قانون بنالے۔قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنی ہوگی جس کے بعد تحریک انصاف اور اس کے اتحادی سادہ اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ سے اس کو منظور کراسکتے ہیں۔

کامران خان کے مطابق پارلیمان سے منظوری کے بعد وزیر اعظم کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں جتنی توسیع کرنی ہے اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیں۔ قوی امکان ہے کہ یہ قانونی عمل مئی 2020 میں مکمل ہوگا جس کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ جنرل باجوہ ہی 2023 کے وسط تک چیف آرمی سٹاف رہیں گے اور 2023 کا الیکشن ان کی موجودگی میں ہوگا۔

کامران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے تسلسل کا عمل جاری رہے گا۔ سپریم کورٹ نے مدبرانہ قوت کو استعمال کیا اور بہت ہی دور رس فیصلہ کرتے ہوئے قوم کو بہت بڑے بحران سے نکال لیا ہے۔ اب ہمیں معیشت کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہیے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی