آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے قانون سازی حکومت کے لئےاعزاز  ہوگا، اٹارنی جنرل

آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے قانون سازی حکومت کے لئےاعزاز  ہوگا، اٹارنی جنرل
آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے قانون سازی حکومت کے لئےاعزاز  ہوگا، اٹارنی جنرل

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور علی خان نے کہاہے کہ آرمی چیف کی توسیع سے متعلق فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے ، سپریم کورٹ نے جس طرح آئین کی ترجمانی کی ہے اس سے حکومت کو آئندہ بھی رہنمائی ملے گی ،آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے قانون سازی حکومت کے لئے بہت اعزاز کا کام ہوگا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور علی ان نے کہا کہ آج کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے ، سپریم کورٹ نے جس طرح آئین کی ترجمانی کی ہے اس سے حکومت کو آئندہ بھی رہنمائی ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات ہے کہ پٹیشن خارج ہوئی اور اس پر کارروائی شروع ہوئی ،سے کے ساتھ ایک نوٹس بھی دیدیا اورنوٹس یہ تھا کہ آرمی چیف کی توسیع کا جو نوٹیفکیشن جاری ہواہے، اس پر عمل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ان تین دنوں میں عدالت عظمیٰ میں جو بحث کی گئی ہے ، اس میں بہت سی اہم چیزیں سامنے آئی ہیں اور اس سے قبل کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہواتھا ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یہ ایکٹ کبھی چیلنج نہیں ہوا تھا جس کی وجہ سے کبھی کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1973کے بعد کئی آرمی چیفس کا تقرر ہوا اور جس طرح ان کو توسیع دی گئی، اسی طرح دی گئی جس طرح موجودہ آرمی چیف کودی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ایک سمری بنائی گئی تھی اور اس میں کوئی نئی چیز شامل نہیں کی گئی تھی ۔ یہ ایک فالو اپ تھا اور اس کو کسی نے نہیں دیکھا کیونکہ یہ کام روایتی طور پر ہورہا تھا اور اسی طرح روایتی طوپر ہی ایک نوٹیفکیشن بنادیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ بات کی کہ قانون میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ ایک آرمی چیف کا کس طرح تقرر ہوگا اور اس کی تقرری کی شرائط کیاہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بحث میں آرٹیکل 243پر بڑا ذکر آیاہے اوردوسر اآرمی ریگولیشنز 255کا بھی بڑا ذکر آیاہے ۔ آرٹیکل 243 آرمی چیف کے تقرر کو ڈیل کرتاہے اور 255اس کے رینک سے تعلق رکھتا ہے ، ان دونوں کوالگ الگ دیکھا گیا اور عدالت نے یہ کہا کہ حکومت نے پرانی سمریوں میں 255کا جوذکر کیاہے ،وہ آرمی چیف کا نہیں ہے ،اس کاذکر نہیں ہوناچاہئے تھا ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے دیکھا کہ عدالت آئین پر مکمل طور پر عمل در آمد کروانا چاہتی ہے ، حکومت بھی مکمل طو پر آئین پر عمل در آمد کا عہد لیکر آئی ہے اور عدالت بھی یہی کہہ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب جو آخری نوٹیفکیشن آیاہے ،وہ عدالت نے قبول کرلیا ہے ، عدالت نے یہ لکھاہے کہ اس سلسلے میں قانون نہیں ہے اور اس حوالے سے حکومت قانون بھی بنائے جس میں آرمی چیف کے مدت اور شرائط کا ذکر ہوناچاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بہت اہم پہلو ہے جو اس حکومت کے لئے بہت اعزاز کا کام ہوگا کہ اس حوالے سے قانون بنایاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی شو میں اس چیز کو بہت عجیب طریقے سے پیش کیاجارہاہے جس سے ہمارے بیرونی دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں، میں کہوں گا کہ پاکستان آپ کا بھی ہے اورہمارا بھی ہے ، اس لئے ایسی کوئی بات نہیں کریں جس سے دوسروں کوموقع ملے کے وہ ہمارے خلا ف بات کرسکیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی