بھاگو، بھاگو……کُتا کان لے گیا!

بھاگو، بھاگو……کُتا کان لے گیا!
بھاگو، بھاگو……کُتا کان لے گیا!

  

دو کھِلنڈرے دوست گلی کی نُکڑپر کھڑے ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ُدور سے ایک سادہ لَوح شخص آتا دکھائی دیا جو اُن کا جاننے والا تھا۔ دونوں نے مل کر آنے والے شخص سے ٹھٹھا کرنے کا ارادہ باندھا، جونہی سادہ لَوح شخص پاس پہنچا، تو اس کے پیچھے سے ایک کتا بھاگتے ہوئے آگے نکل گیا۔ دونوں دوستوں میں سے ایک نے سادہ لَوح شخص سے کہا ”بھاگوبھاگو،وہ کتا تمہارا کان لیے دوڑا جا رہا ہے“ سادہ لَوح شخص اپنا کان چھوئے بغیر کتے کے پیچھے سرپٹ دوڑنے لگا۔ کتا آگے آگے اور وہ پیچھے پیچھے۔ کافی دور جا کے اُسے دوڑتا دیکھ کر کسی شناسا نے پوچھا”میاں،کتے کے پیچھے کیوں بھاگے جا رہے ہو؟“  وہ کہنے لگا ”یہ میرا کان کاٹ کے لے جا رہا ہے“۔ اُس شخص نے کہا ”آپ کے دونوں کان تو اپنی جگہ پر موجود ہیں“سادہ لوح شخص نے جب ہاتھ لگایا تو شرمندہ ہوا کہ وہ بغیر اپنے کانوں کو دیکھے یا محسوس کیے اتنی دیر کتے کے پیچھے بھاگتا رہا۔ 

آج من حیث القوم ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ہم اپنے کان سنبھالے بغیر کتے کے پیچھے سر پٹ بھاگے جا رہے ہیں، اور اس انتظار میں ہیں کہ کوئی راہ گیر روک کر ہمیں بتائے کہ ہمارے کان تو اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ ٹیلی ویژن پر، اخبار میں یا سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی کوئی بھی خبر یا واقعہ تصدیق طلب ہوتا ہے، مگر ہم بلا توقّف، نہایت ”خلوص“کے ساتھ ایسی خبروں اور واقعات کو نہ صرف آگے بڑھاتے ہیں بلکہ بڑھانے والے کے لئے زیارات ِ مقدسہ، جنت الفردوس کا حصول اور اسی طرح کی دیگر کامیابیوں کی ابدی ضمانت دیتے ہیں، اور نہ بڑھانے والے پر دُشنام طرازی اور ملامت سے بھر پور الفاظ ”ازراہِ ثواب“ ارسال کرتے ہیں۔ اس وقت یہ بات بھول جاتے ہیں کہ نبی اکرمؐ  کا فرمان ِ عظیم ہے ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو سنے (بلاتحقیق)اسے بیان کرتا پھرے“۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن ایک ایسا سرکاری ادارہ ہے جو معیار اور شفافیّت کے نصب العین کے تحت مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ملازمتوں کے لئے امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے۔ اس ادارے کی شفافیّت کی دلیل اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ انٹرویو لینے والے ممبرکا سگا بیٹا انٹرویو میں ایک نمبر سے فیل ہو جائے،اور اسی طرح دیگرممبران کے اپنے بیٹے، بیٹیاں تحریری اور زبانی امتحانات میں ناکام ہوتے ہوں، لیکن اپنے کان کو دیکھے بغیر،کتے کے پیچھے بھاگنے کی ہماری نفسیات کو سمجھنے والے مفاد پر ست عناصر امیدواروں کی بالخصوص اور عام شہریوں کی رائے کوبالعموم پراگندہ کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ کبھی کسی پرچہ کے افشا ہونے کا شورو غوغا تو کبھی ”جوابی چابی“کی اشاعت کا وا ویلا۔ یہ سمجھے بغیر کہ امتحان کا وقت ختم ہونے کے بعد اگر سوشل میڈیا پر کچھ رونما ہو جائے  تو اُسے افشا ہونا نہیں کہتے، بلکہ امتحان کے شروع ہونے سے قبل کسی پرچہ کے سامنے آنے کو افشا ہونا کہتے ہیں،جو کبھی نہیں ہوا۔ اسی طرح ایسی ”جوابی چابی“ کی سوشل میڈیا پرمکرّر رونمائی، جس کا تعلق کسی پرچہ سے نہ ہو،مجہول مقاصد کی عکاس ہو تی ہے۔

ہمارے ہاں مذہبی یا سیاسی تناظر میں اگر کوئی متعصب شہری اپنے فرقہ یا جماعت کے حق میں اور مخالف فرقوں یا جماعتوں کے خلاف کوئی تحریر، تصویر یا ویڈیو تیار کر کے رائے عامہ زہر آلود کرتا ہے تو ہم خیال،”جذبہ جنونیت“ کے تحت، اس کے پیچھے سر پٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے یا تحقیق کیے کہ متعلقہ تحریر، دستاویز، تصویر یا ویڈیوحقیقت کے کتنا قریب ہے۔ گویا، ہم اتنا وقت ہی نہیں نکال پا رہے کہ بھاگنے سے پہلے دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر محسوس کر لیں کہ یہ اپنی جگہ پر موجود ہیں یا نہیں۔ 

ہماری سوچ ایک مخصوص دائرے میں گھوم رہی ہے، اور جانے کب تک گھومتی رہے گی۔ ہم بند ذہن کے ڈبے سے نکل کر نہ سوچنا چاہتے ہیں نہ کسی کی رائے کو قبول کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو، ہمارے ذہن درجہ بدرجہ غلامی کی زنجیروں کی کڑیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ ہمارا دور چار سو سال قبل مسیح کا زمانہ ہے، جہاں سقراط کے پیرو کاروں کو زہر کا پیالہ پلائے جانے کی سزا کسی بھی لمحہ دی جا سکتی ہے۔ آج معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور مذہبی بندخانوں میں نمو پانے والا ذہن اچھے اور برے کی تمیز سے ”آزاد“ ہوتا جا رہا ہے۔ہم خیال اگر گالی بھی دے تو واہ واہ اور سبحان اللہ کے واشگاف نعرے بلند ہوتے ہیں، اور دوسرا، حق سچ پر مبنی، مدّلل اور مفید بات کر رہا ہو تو نفرت کی بھینٹ چڑھتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہماری ذہنی پستی بھلا کیا ہو گی کہ حکومت ِ وقت کی طرف سے کرونا جیسی وبائی مرض کے عدم پھیلاؤکی تدبیر کے طور پر تعلیمی اداروں کو وقت ِ معینہّ کے لئے بند کرنے پر ہم لُڈیاں اوربھنگڑے ڈالتے ہیں، اور دو دن کے لئے اگر ٹک ٹاک جیسی اپلی کیشن پر پابندی لگ جائے توماتم کناں ہوجاتے ہیں۔

ہمارے معاشی، معاشرتی اور تعلیمی نظام کے معمار بخوبی جانتے ہیں کہ اگر لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا، تصدیق اور تحقیق کو اپنے انداز ِ فکر کا پیمانہ بنا لیا تو پھر وہ چوروں کو چور ہی کہیں گے،رہبر نہیں۔ وہ پرکھ پائیں گے کہ وطن سے محبت کس کو ہے اور وطن کی محبت کے نام پر اعلیٰ مرتبہ اور دولت کی ہوس میں کون جکڑا ہوا ہے، اسی طرح اچھے اور برے میں تمیز کا خاصہ اُن کے مستقبل کی سمت کا تعیّن کرے گا،مگر جانے ہماری ذہن سازی بند خانوں میں کب تک ہوتی رہے گی اور ہم اپنے کانوں کو بغیر چھوئے کب تک کتے کے پیچھے بھاگتے رہیں گے؟

مزید :

رائے -کالم -