ایک تعزیتی رقعہ 

ایک تعزیتی رقعہ 
 ایک تعزیتی رقعہ 

  

محترمہ سمیہ راحیل صاحبہ کے ایشو کو دونوں طرف انتہائی ناشائستہ اور توہین آمیز انداز میں زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ جماعت کے کارکنوں کی تحریروں سے ان کے دل میں جمع  سیاسی مخالفت کا گند ہے اسے نکالنے کا انہیں بہانہ مل گیا۔ دوسری طرف کا محاذ برطانیہ میں بیٹھے ہوئے شمس خان اور ان کے ہم نوا کچھ دوسرے لوگ جماعت اسلامی کے بارے میں اپنے اندر جمع ہوئی انتہائی آلودہ منافرت اگل رہے ہیں۔ جماعت کے کارکن احسان و مروت کی ان روایات و اقدار سے بیگانہ ہو چکے ہیں جن کے تحت سمیحہ راحیل صاحبہ مریم نواز شریف کے ہاں تعزیت کے لیے گئیں۔ وہ ایک باوقار سماجی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنے معاشرتی تعلقات کو جماعت تک محدود نہیں رکھا ہوا ہے۔ ان کے تعلقات کا وسیع دائرہ ہر سیاسی جماعت اور معاشرتی طبقے کے لوگوں سے ہیں۔ ان کے یہ تعلقات جماعتی بنیادوں پر نہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ وہ ایک معروف سماجی شخصیت ہیں جن کا شمار مسلم دنیا کی بااثر ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ بہت سے غیر جماعتی بلکہ مخالف جماعت لوگوں بلکہ ایم کیو ایم جیسی تنظیم کی خوش بخت شجاعت سمیت خواتین سینیٹرز تک بھی ان کا احترام کرتی ہیں۔ وہ سب کے غم اور خوشی میں شریک ہوتی ہیں اور سب کے دکھ سکھ سے آگاہ رہتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں یا حقیقی تحریکی کردار کے پہلو سے غور کریں تو یہ لائق تحسین سماجی روش ہے۔ اس طرز عمل کی حامل شخصیت تعصبات اور سیاسی منافرتوں سے بلند ہو کر سماج پر اپنے اخلاق سے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہی جماعت اسلامی کی صحیح اسلامی تصویر ہے۔ اعلی ظرفی کی  یہی وہ لائق تعریف روش ہے جو ہمارے اندر کم ظرفوں کے غالب آ جانے کی وجہ سے اب بڑی حد تک دب گئی ہے۔ میاں نواز شریف کی والدہ زندہ تھیں تو سمیحہ راحیل صاحبہ ان کو بھی اپنی والدہ جیسا احترام دیتی تھیں۔ شہباز شریف کی بہووں سمیت  مسلم لیگ کی تہمینہ دولتانہ جیسی کئی دیگر نمایاں خواتین کے ساتھ بھی ان کا باہمی احترام کی بنیاد پر خوشگوار تعلق ہے۔ اسی تعلق کے تحت وہ مریم نواز شریف کی والدہ کی تعزیت کے لیے مریم نواز سے ملنے گئی تھیں۔ مناسب طریقہ تو یہ تھا کہ فون پر اطلاع کر کے جاتیں۔ اگرگیٹ نہیں کھلا تھا رقعہ چسپاں کر آتیں یا گیٹ کے چوکیدار کو دے آتیں۔ لیکن انہوں نے وہ رقعہ سوشل میڈیا پر نشر کر کے غلطی کی۔

اب دو خواتین کے معاملے کو دونوں طرف سے جو لوگ بہت گھٹیا انداز میں زیر بحث لا رہے ہیں وہ سمیحہ راحیل کے اخلاق کو اپنے تعصبات کا ایندھن بنا رہے ہیں اور رقعے کی بنیاد پر ایک غم زدہ خاندان سے اپنی نفرت کے اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ شمس خان سمیحہ راحیل صاحبہ کے لیے توہین آمیز تبصرے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف جماعت کے ان گھڑ، نیم تربیت یافتہ اور دینی روح سے نا آشنا کارکن اور وابستگان اس بہانے سے شریف خاندان سے اپنا سیاسی بغض اگل رہے ہیں۔سچی بات ہے کہ ایسا کرنے والے اپنی اخلاقی پستی دکھا رہے ہیں۔ یہ وہ اخلاق ہر گز نہیں جو اسلام سکھاتا ہے یا جس کی جماعت اسلامی کی روایات میں بڑی اہمیت رہی ہے اور اب وہ رخصت ہو رہا ہے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اپنے گناہ اور غلطی کے لیے بڑی بے خوفی سے دلیلیں گھڑ کر لا رہے ہیں اور اصرار سے اپنی روش کو اسلامی ثابت کر رہے ہیں۔ 

 اس افسوس ناک اور غیر اخلاقی مہم پر ان اللہ کے بندوں کو خدا کا خوف دلانے کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ انہیں یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ اخلاق اور شرافت کی اسلامی قدریں جماعت اسلامی سے عصبیت کی شدت کے ساتھ حزبی تعلق سے بہت اعلی و ارفع چیزیں ہیں۔ جہاں اخلاق نہیں وہاں اسلام کیا رہ جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اخلاق نہ رہے تو ایمان بھی نہیں رہتا۔

مزید :

رائے -کالم -