’آپ پر یوٹرن لینے اور سلیکٹڈ ہونے کا الزام ہے‘ منصور علی خان کا سوال، عمران خان نے ’تسلی‘ کرادی

’آپ پر یوٹرن لینے اور سلیکٹڈ ہونے کا الزام ہے‘ منصور علی خان کا سوال، عمران ...
’آپ پر یوٹرن لینے اور سلیکٹڈ ہونے کا الزام ہے‘ منصور علی خان کا سوال، عمران خان نے ’تسلی‘ کرادی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، اس کیلئے وہ حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے ،اس کو اپوزیشن یوٹرن کا نام دیتی ہے، اُنہوں نے 22 سال جدو جہد کی جبکہ اِن کے مد مقابل نواز شریف سلیکٹڈ اور ذوالفقار علی بھٹو ڈکٹیٹر کے وزیر رہے۔

اینکر پرسن منصور علی خان نے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم سے سوال پوچھا کہ آپ پر اپوزیشن کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ یوٹرن لیتے ہیں اور آپ سلیکٹڈ ہیں۔

یوٹرن

وزیر اعظم عمران خان نے یوٹرن سوال  کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فرض کریں کہ میں میچ کھیل رہا ہوں،میں نے ایک سٹریٹجی بنائی ہوئی ہے، جب گراؤنڈ میں اترتا ہوں تو اگلا کپتان ایک ایسی حکمت عملی اپنالیتا ہے جس سے وہ جیتنے لگتا ہے،ایسے میں مجھے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی،جب آپ مقابلے کی صورتحال میں ہوتے ہیں تو مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں، آپ کا اصل مقصد جیتنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا اصل مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے جس کیلئے مختلف حکمت عملیوں پر عمل کیا جا رہا ہے،اگر ان میں سے کوئی فیل ہوجاتی ہے تو دوسری حکمت عملی اپنائی جاتی ہے، جس کو تجربہ نہ ہو تو وہ یوٹرن جیسی باتیں کرتا ہے۔

سلیکٹڈ

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں خود کو سلیکٹڈ کہنے پر حیرت ہوتی ہے، نواز شریف سلیکٹڈ تھے،  جب جنرل جیلانی نے انہیں وزیر خزانہ بنایا تو انہوں نے کوئی الیکشن نہیں لڑا تھا، ذوالفقارعلی بھٹو فوجی آمر کے وزیر تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے تب پارٹی بنائی جب ایوب خان نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا رکھی تھی یعنی اس وقت سیاسی خلا موجود تھا، ان کے بچوں کی بات کریں تو مریم نواز اگر اپنے باپ کی بیٹی نہ ہو تو ان کو یہ پوزیشن نہ ملتی، بلاول اگر کاغذ نہ دکھاتے تو چیئرمین نہ بنتے, دوسری جانب میں نے 22 سال جدو جہد کی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فافن نے 2013 اور 2018 کے الیکشن کا موازنہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ 2018 کا الیکشن 2013 کے الیکشن سے بہت بہتر تھا۔وزیراعظم عمران خان کے مطابق  جب الیکشن ختم ہوجاتا ہے تو ہارنے والے امیدوار الیکشن کمیشن میں پٹیشنز دائر کرتے ہیں۔ 2013 میں ایسی 133 پٹیشنز تھیں جبکہ 2018 میں 102 پٹیشنر دائر کی گئیں۔ ان میں سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مجموعی طور پر 24 جبکہ تحریک انصاف کی 23 پٹیشنز تھیں، اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں تو 2018 کا الیکشن زیادہ بہتر تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -