سائنسدان کا قتل، ایران کو جوابی کارروائی سے روکنے کیلئے امریکہ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آگیا، جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

سائنسدان کا قتل، ایران کو جوابی کارروائی سے روکنے کیلئے امریکہ بھاری ...
سائنسدان کا قتل، ایران کو جوابی کارروائی سے روکنے کیلئے امریکہ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آگیا، جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ الیکشن ہار چکے ہیں اور لگ بھگ دو ماہ بعد وہ وائٹ ہاﺅس چھوڑ کر چلے جائیں گے لیکن جانے سے پہلے وہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے انتہائی خوفناک افواہیں گردش میں ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جانے سے پہلے کچھ ایسا خطرناک کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے اور یہ کام امریکہ کی طرف سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کرنا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق قرائن بتا رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ جاتے جاتے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

امریکہ کی طرف سے اپنا جنگی بحری بیڑہ ’یو ایس ایس نیمٹز‘ بھی خلیج فارس میں تعینات کرنے کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ بظاہر بتایا گیا ہے کہ اس بیڑے کی خلیج فارس میں تعیناتی کا مقصد افغانستان اور عراق سے واپس نکلنے والے فوجیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم امریکہ کی طرف سے یہ اقدام ایران کے چیف نیوکلیئر سائنسدان کے قتل کی واردات کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی طرف سے امریکہ پر شدید دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائے لیکن اس بار سعودی عرب آڑے آ رہا ہے۔ سعودی عرب کو تحفظات لاحق ہیں کہ ایرانی سائنسدان کے قتل کی وجہ سے خطے میں کشیدگی پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور ایسی صورت میں ایران پر بمباری جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ مہابدی کو تہران میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کی گاڑی پر پہلے بم دھماکہ ہوا اور پھر مشین گن سے فائرنگ کی گئی۔ دو سال قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”محسن فخری زادہ مہابدی کا نام یاد کر لو۔“ ایران کی طرف سے محسن فخری زادہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے شرانگیزیاں خطے کو خوفناک جنگ کی طرف لیجا رہی ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ ایک ہفتہ قبل ایران پر بمباری کے معاملے پر اپنے مشیروں کے ساتھ بھی مشاورت کر چکے ہیں تاہم مائیک پومیپیو اور دیگر لوگوں نے انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین کی او رکہا کہ اس طرح جنگ چھڑ جانے کا غالب امکان ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کے بعد سے صدر ٹرمپ نے ایران کو ’سزا‘ دینے کے دیگر آپشنز پر غور شروع کر رکھا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -