پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سربراہ سلیکٹڈ تھے، میں نے 22 سال جدو جہد کی: عمران خان

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سربراہ سلیکٹڈ تھے، میں نے 22 سال جدو جہد کی: عمران خان
پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سربراہ سلیکٹڈ تھے، میں نے 22 سال جدو جہد کی: عمران خان
سورس:   Twitter

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سربراہ سلیکٹڈ تھے، میں نے پارٹی کو صفر سے شروع کیا اور 22سال جدوجہد کی۔ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی پریشر نہیں تھا، جن کو عاصم سلیم باجوہ سے ایشو ہے وہ نیب میں جاسکتے ہیں، میچ جیتنے کے لئے اسڑیٹجی بدلنی پڑتی ہے۔ میرا اور آرمی چیف کا کوئی اختلاف نہیں ،ہم اپنے منشور کے مطابق کام کررہے ہیں۔ جب ہمارے پانچ سال پورے ہوں گے تو عثمان بزدار کی پرفارمنس پنجاب کی تاریخ میں تمام وزرائے اعلی سے بہتر ہوگی، پانچ سالوں میں ایک کروڑ سے زائد نوکریاں اور 50 لاکھ سے زائد گھر دیں گے، جہانگیر ترین کے ساتھ اچھا تعلق رہا، چینی بحران میں ان کا نام آنے پر افسوس ہوا۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کو دیے گئے انٹرویومیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دونوں بڑی پارٹیوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سلیکٹڈ تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو ڈکٹیٹر کے وزیر بنے، بھٹو 8سال سیاست کرچکے تھے اس کے بعد پارٹی بنائی،بلاول ایک کاغذ کی وجہ سے لیڈر بنے۔ نواز شریف سلیکٹڈ تھے ان کو جنرل جیلانی نے منتخب کیا انہوں نے کوئی جدوجہد نہیں کی،مریم کو بیٹی ہونے کی وجہ سے پارٹی میں پوزیشن حاصل ہے۔ میں نے زیر و سے پارٹی شروع کی،22سال جدوجہد کی۔اسٹرٹیجی چینج کرنے کو یو ٹرن کہہ دیا جاتا ہے اپ مسلسل اپنی اسٹرٹیجی تبدیل کرتے ہیں کیونکہ آپ کا مقصد جیتنا ہوتا ہے۔ میچ جیتنے کے لئے اسٹرٹیجی تبدیل کرنا پڑتی ہے۔

الیکشن میں دھاندلی کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فافن نے دونوں الیکشن کا تقابلی جائزہ لیا ان کا کہنا ہے کہ 18کا الیکشن بہتر تھا۔2013میں الیکشن کے خلاف 133پٹیشنز فائل ہوئیں2018کے انتخابات کے بعد 102پیٹیشنز ہوئیں، جس میں ان دونوں پارٹیوں کی 24اور تحریک انصاف کی 23پیٹیشنز شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا فوج سے کوئی اختلاف نہیں ہے، فارن پالیسی کے حوالے سے ہم اپنے منشور پر عمل کررہے ہیں۔ہم افغانستان کے ملٹری حل کے حق میں نہیں تھے۔ ہم پر دباؤ تھا کہ کسی ایک اسلامی ملک کی سائیڈ لیں،ہم نے فیصلہ کیا کسی کی سائیڈ نہیں لیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی ایک مثال دیں کہ میں پریشر میں آیا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر سی پیک کا فوکل پوائنٹ ہے۔ وہاں سکیورٹی ایشو ہے،عاصم سلیم باجوہ پہلے بھی چائنیز کے ساتھ کام کرچکے ہیں، ہمارے پاس بہترین آپشن عاصم سلیم باجوہ تھے۔ اس حوالے سے مجھ پر کسی کا دباؤ نہیں تھا۔ ہم عاصم سلیم باجوہ کو تجربے کی وجہ سے لیکر آئے تھے،جو ان پر الزام لگے اس کا انہوں نے تفصیلی جواب دیا، جس کا میں نے وزیر قانون کے ساتھ بیٹھ کر جائزہ لیا۔ کوئی بھی ان کے خلاف نیب میں جاسکتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے خلاف کیسز تحریک انصاف کے طاقت میں آنے سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں،جو انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے۔ جب ہم آئے اسحاق ڈار اور انکے بیٹے ، نواز شریف کے بیٹے اور شہباز شریف کا داماد بھاگ چکا تھا۔ہم نے شہباز شریف کے خلاف ٹی ٹیز سامنے آنے پر کیس بنایا۔ زرداری پر سرے محل کا کیس ن لیگ نے بنوایا۔بی بی سی کی نواز شریف اور زرداری کی کرپشن پر دو ڈاکومنٹریز بنی ہوئی ہیں۔ ہم نے اداروں کو آزاد کیا ہے۔ نیب پر میرا کوئی کنڑول نہیں ہے۔ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ہمیں بلیک میل کیا۔ انہوں نے نیب کی 34شقیں تبدیل کرنے کا کہا ۔ ہم آج چاہیں تو نیب قوانین تبدیل ہوجائیں اور ان کے ساتھ مل جائیں۔ ہم نے اداروں سے کہا ہے جس نے ملک کا پیسہ لوٹا اس کا مکمل احتساب ہو۔

جہانگیر ترین اور شوگر سکینڈل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کٹی ہوئی ہیں، مسابقتی کمیشن میں ان کے خلاف کیس چل رہا ہے، ایف آئی اے الگ تحقیقات کررہا ہے، چینی پر پہلی دفعہ ایسی تحقیقات ہوئی ہیں۔ ہم قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔ اس میں ہمارے لوگ بھی ہیں دوسرے بھی ہیں،شوگر سکینڈل میں خسرو بختیار نہیں ان کے بھائی کا نام ہے۔ ہم مداخلت نہیں کریں گے۔ ہم کسی اداے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ جو بھی ملوث ہوا اس کو سزا ملے گی، ہماری اور پہلے کی حکومتوں میں فرق یہ ہے کہ ہم نے اداروں کو چھوٹ دی ہے۔ آج تک کبھی تحقیقات نہیں ہوئی تھیں ۔ شوگر ملز چینی کا ریٹ طے کرتی تھیں،شوگر مافیا کی وجہ سے چینی کی قیمت بڑھی، یہ سب پہلی دفعہ ہورہا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ مجھے جہانگیر ترین کے حوالے سے افسوس ہوتا ہے وہ میرے بہت قریب تھے، جہانگیر نے ہمارے ساتھ بڑا کام کیا وہ اس وقت مشکل وقت میں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ہر معاملے کی آئی بی کے ذریعے تحقیقات کرواتے ہیں اور ان پر ایکشن بھی لیتے ہیں۔ساری دنیا میں پانامہ کا انکشاف ہوا، نواز شریف فلیٹ کی ملکیت تسلیم کرتے تھے، مگر سزا ملنے میں ڈیڑھ سال لگا۔ شہباز شریف کے کیس میں دو لوگ پکڑے گئے ان کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے آرہے تھے جو شریفوں کے اکاؤنٹ میں جاررہے تھے۔

کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیلٹ گنز اور اجتماعی قبریں کشمیر میں ہم سے پہلے تھیں، کیا نواز شریف نے مودی سے اس بارے سوال کیا؟ نواز شریف نے کشمیر کا معاملہ نہیں اٹھایا۔ وہ حریت لیڈرز کو بھی نہیں ملے۔ کشمیر اب ایک انٹرنیشنل ایشو بن چکا ہے جو اسٹینڈ کشمیر پر ہم نے لیا تاریخ میں کبھی نہیں لیا گیا، امریکہ،اقوام متحدہ میں کشمیر پر بات ہوئی، ہم نے کشمیر کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا۔

خارجہ محاذ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے سعودیہ سے اچھے تعلقات ہیں۔ دورہ امریکہ سے واپسی پر محمد بن سلمان کے جہاز پر سفر کیا خراب ہونے پر دوسرا منگوایا گیا۔ سعودی شہزادے نے اپنا جہاز واپس نہیں منگوایا تھا۔ یو اے ای میں ویزہ کا ایشو بنا ہوا ہے اس پر بات چیت ہورہی ہے۔ ترکی سے ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ چین سے وہ تعلقات ہیں جو پہلے کبھی نہ تھے۔ افغانستان ہمیں پہلے شک کی نظر سے دیکھتا تھا اب اچھے تعلقات ہیں، ایسے تعلقات ہیں جو پہلے کبھی نہ تھے۔ ڈومور کہنے والا امریکہ اب پاکستان کی تعریفیں کرتا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی پہلے کبھی ایسی نہ تھی۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو بھی شہری اٹھایا گا ان کا نوٹس لیا تو وہ واپس آگئے۔ میڈیا واچ ڈاگ ہوتا ہے ، معاشرے میں آگاہی دیتا ہے۔ معاشرہ تب آگے بڑھتا ہے جب اظہار رائے کے آزادی ہوتی ہے۔جیسے الزام مجھ پر لگے،برٹش میڈیا کو میں بہترین طریقے سے جانتا ہوں اگر یہ وہاں ہوتا تو سخت جرمانے ہوتے۔ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔کچھ صحافیوں میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ ہر معاملے پر تجزیہ دیں، صحافی معاشرے کا سب سے بڑا اثاتہ ہوتا ہے جو محنت کرتا ہے اور درست تجزیہ کرتا ہے۔سارا میڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تھا۔ اس نے امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ لیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کرونا کی وجہ سے مار کھا گیا۔اگر کرونا نہ ہوتا تو میڈیا جو بھی کرتا ڈونلڈ ٹرمپ نہ ہارتے۔ میڈیا آزادی کے ساتھ ذمہ داری نہیں نبھاتا۔ جھوٹی خبروں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے،ہم جب ریزرو بڑھا رہے تھے۔ جھوٹی رپورٹس چلائی گئیں کہ ڈالر 200روپے تک چلا جائے گا ،معشیت کے حوالے سے جھوٹی خبروں سے ملک کا نقصان ہوتا ہے۔اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر اعتراض ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پر بھی گھر میں کم ٹائم دینے کا پریشر آتا ہے،گھر جاکر مجھے اگلے دن کی پلاننگ کرنی ہوتی ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ کام کرنا ہوتا ہے وزیراعظم کی کوئی سوشل لائف نہیں ہوتی۔

نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تعیناتی سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری میرے وکیل پانامہ میں بنے لیکن اس سے پہلے وہ 50 سال سے پی ٹی وی سے منسلک ہیں ،جتنا وہ پی ٹی وی کو سمجھتے ہیں شاید ہی کوئی سمجھتا ہو،ان کو ہم نے خود درخواست کی تھی۔ جس طرح سارے ادارے نیچے گئے ویسے ہی پی ٹی وی کیساتھ ہوا۔ نعیم بخاری ایک بڑا نام ہے، وہ ایگزیکٹو نہیں بورڈ کے چئیرمین ہیں، ساری دنیا میں ایک چینل ایسا ہوتا ہے جو گورنمنٹ کا موقف دیتا ہے، ترکی میں ٹی آرٹی بہت اچھا کام کررہا ہے اگر پی ٹی وی صرف ماؤتھ پیس بن جائے گا تو اسکا اسٹینڈرڈ گر جائے گا۔ پی ٹی وی میں اپوزیشن کو بھی ٹائم ملے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے دو سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا نہیں کہا تھا۔انشاءاللہ پانچ سالوں میں ایک کروڑ سے بھی زائد نوکریاں ہونگی اور گھر 50لاکھ سے تجاور کرجائیں گے۔ ہمارے دو بڑے پراجیکٹ ہیں ۔ ایک کراچی میں بنڈل آئی لینڈ اور دوسرا لاہور میں راوی ریور فرنٹ ۔ انڈیا میں 10 جبکہ ملائشیامیں 30 فیصد گھر بینکوں سے قرضے لے کر بنتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاؤس لون کے حوالے سے عدالت میں ایک کیس پھنسا ہوا تھا اس کے حل تک بینک فنانس نہیں کرسکتے تھے، اس کیس کو نکالنے میں دو سال لگے۔ پانچ مرلے کے مکان پر صرف پانچ فیصد پراب کوئی بھی قسطوں پر اپنا گھر بناسکتا ہے۔ پہلے ایک لاکھ گھروں پر حکومت تین لاکھ رعایت دے گی۔ ہم نے کنسڑکشن کا مکمل پیکج دیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی سیل ہے،جو سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے۔لاہور کا پانی نیچے جاچکا ہے لاہور میں پانی کا کرائسز آنے والا ہے جیسا کہ کراچی میں آچکا ہے۔راوی سٹی پراجیکٹ 15 سال پہلے شروع ہوا ،یہاں پہلے سے سیکشن فور لگا ہوا ہے۔لاہور راوی سٹی میں لوگوں سے زبردستی زمینیں نہیں لے جارہیں یہ جھوٹی خبریں ہیں۔ راوی سٹی میں 40 کلومیٹر لمبی لیک بنے گی جس سے پانی کی سطح بلند ہوگی۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگارہے ہیں۔ صاف پانی دریائے راوی میں ڈالیں گے یہ پانی سندھ تک جاتا ہے۔لاہور میں 20سال کے دوران 70فیصد درخت کاٹ دئیے گئے۔ لاہورپچھلے 20سالوں میں دوگنا بڑھ گیا ہے۔ بنڈل آئی لینڈ اور راوی سٹی ماڈرن سٹی ہونگے۔ لوگوں کو یہاں سے نوکریاں ملیں گی اوورسیز پاکستانی یہاں انویسٹ کریں گے جہاں سے ہمیں ڈالر آئیں گے اس سے کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ کم ہوگا۔ پشاور میٹرو ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا پراجیکٹ ہے،ہم کسی کو تحقیقات سے نہیں روک رہے،جلدی میں پراجیکٹ مکمل کروانے کی کوشش کی جس سے مشکلات آئیں۔ اس پراجیکٹ میں سبسڈی نہیں دینی پڑے گی۔ میٹرو اور اورنج لائن ٹرین کی مد میں لاہور کو سالانہ 24 ارب کی سبسڈی دینے پڑے گی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا ویژن یہ ہے کہ پاکستان فلاحی ریاست بنے۔جو لوگ یا علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ عثمان بزدار کا علاقہ سب سے پیچھا رہ گیا ہے۔عثمان بزدار کے علاقے میں سب سے کم بجٹ لگتا تھا۔وزیراعظم نے دعوی کیا کہ جب حکومت پانچ سال پورے کرے گی تو عثمان بزدار پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیراعلی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2021کے اختتام تک پنجاب کے ہر شخص کے پاس 10لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس ہوگی۔انشورنس کارڈ پر کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ ہسپتال میں جاکر اپنا علاج کرواسکیں گے۔ اس سے صحت کامکمل نظام بنے گا۔ہسپتالوں کا جو سامان پاکستان میں نہیں بنتا وہ ڈیوٹی فری کردیا ہے۔ محکمہ اوقاف اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جو زمینیں خالی ہیں ان کو کم ریٹ پر ہسپتال بنانے کی اجازت دی جائے گی۔ افسران کو تبدیل کرنا وزیراعلی کا حق ہے،م یچ جیتنے کے لئے تبدیلیاں کرتا رہوں گا۔ پنجاب میں 30 سال سے ایک سیٹ اپ بنا ہوا تھا۔ بیورو کریسی سیاسی ہوچکی ہے۔ جب رکاوٹیں آتی ہیں تو ان افسران کو تبدیل کیا جاتاہے۔ ہم نے افسران کو موقع دیا جس نے پرفارم نہیں کیا اسکو تبدیل کردیا۔

آئی جی پنجاب کی تبدیلی کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پرانے آئی جی نے تین ماہ بعد ریٹائرڈ ہوجانا تھا، نئے آئی جی کی زبردست پرفارمنس ہے۔

صوبائی وزیر جیل خانہ جات پنجاب کے بارے میں وزیر اعظم نے بتایا کہ پہلے انہیں اقلیتوں کے خلاف بیان دینے پر ہٹایا گیا تھا اب فیاض الحسن چوہان تگڑی وزارت چاہتے تھے جو ان کو مل گئی ہے۔ ہمیں فردوس بھی چاہیے تھیں۔ فردوس عاشق پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں تھا ان کے اپنے ادارے کے اندر مسئلے تھے۔ کرپشن کی صرف افواہیں تھیں۔ 

نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے سوال پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے نواز شریف کی جو رپورٹس دیکھیں تو سوچا کیا ایک آدمی کو اتنی بیماریاں ہوسکتی ہیں؟شہباز شریف نے گارنٹی دی کہ وہ علاج کے بعد واپس آجائیں گے۔ یہ مشرف سے باہر جانے کے معاہدے کا انکار کرتے رہے اور پھر سعودی شہزادہ وہ معاہدہ سامنے لیکر آیا۔مجھ پر نواز شریف کو باہر بھجوانے کے حوالے سے کوئی پریشر نہیں تھا،مجھ پر کوئی پریشر نہیں ڈال سکتا۔مجھے اللہ وزیراعظم بننے سے پہلے ساری عزت دے چکا تھا۔فوج کو سب کچھ پتہ ہوتا ہے کون سا وزیراعظم فیکڑیاں بنارہا ہے۔میں جو کچھ کرتا ہوں آئی ایس آئی اور آئی بی کو پتہ ہوتا ہے۔امریکی صدر جو کرتا ہے ان کی ایجنسیوں کوپتہ ہوتا ہے کیونکہ ایجنسیوں کو سربراہان کو پروٹیکٹ کرنا ہوتا ہے۔یہ نہ صرف فوج بلکہ امریکہ سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ امریکہ کو پتہ ہوتا ہے انکا پیسہ وہاں پڑا ہوا ہے۔میں جب سیاست میں آیا تو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی،میں مقصد پر کمپرومائز نہیں کروں گا۔چوہدری شجاعت حسین کی ہمیشہ سے عزت کرتا ہوں،ان کی عیادت کے لئے ان کے گھر گیا۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -