’ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ، پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے‘

’ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ، پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے ...
’ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ، پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے‘

  

لاڑکانہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے،پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ماتحت ہوچکا ہے، اب یہ ادارہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہوگا ،یہ ملک تب رہ سکتا ہے جب ہم آئین کے حدود میں رہ کر قرآن و حدیث کے مطابق قانون سازی کریں ،ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ، بلوچستان اور سندھ کے جزائر کے مالک صوبوں کے عوام ہیں ، ان کا حق کوئی نہیں چھین سکتا ،فاٹا اور کشمیر دونوں کا اس وقت کوئی وارث نہیں ،پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے ۔

لاڑکانہ میں شہید اسلام قومی کانفرنس میں ہزاروں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ یہ پھولوں کا ایک نہیں کانٹوں بھرا راستہ ہے ، ہم نے کئی صدیاں اس وطن عزیز کی آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں، آج بھی اس وطن عزیز کیلئے عزم کرنا ہے کہ ہم نے اس ملک کو بین الاقوامی کالونی بننے نہیں دینا ،ہم نے اس کو ایک آزاد اسلامی ملک کی حیثیت سے شناخت دینا ہوگی، میں نے صوبہ سندھ بلوچستان کے جزائر کی بات کی تھی، آج بھی کہہ رہا ہوں کہ ان کے جزائر کے حقدار وہاں کی اقوام ہے ، ان کا حق کوئی نہیں چھین سکتا،آج جو قانون سازیاں ہو رہی ہے یہ جو قرآن و حدیث کے متصادم ہے ،یہ صریح قرآن کی خلاف ہے اور یہ جہالت ہے ،آج کے یہ قانون ساز ادارے قرآن کے بالکل متضاد قانون سازی کر رہے ہیں ، پاکستان میں آئین کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، جو قانون سازی قرآن و سنت کے مخالف ہوگی ہم اس کو رد کرتے ہیں ، قوم کے مابین آئین ایک میثاق ملی کی حیثیت رکھتا ہے ،یہ ملک تب رہ سکتا ہے جب ہم آئین کی حدود میں رہ کر قرآن و حدیث کے مطابق قانون سازی کریں ،ہمارے مالیاتی ادارہ آزاد ہونے چاہئیں،ہمیں خود مختار ہونا چاہیے ،ان شاءاللہ اسی ہمت و عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو پاکستان کے اسلامی تشخص اور وقار کو برقرار رکھ سکیں گے۔

 انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستانی معیشت کی کشتی غرقاب ہونے کے قریب ہے ،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ریاست کی بقاءکا دارومدار دفاعی قوت پر ہے جبکہ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ دفاعی قوت ثانوی چیز ہے جب کہ معیشت اولوی چیز ہے،آج ھم معیشت میں ایران اور دیگر ممالک سے بھی نیچے گر گئے ہیں، ہمیں سب چیزوں کو ٹھیک کرنا ہے ،2008ء سے 2018ء تک جتنے قرضے لئے گئے، ان تین سالوں میں اس سے دگنے قرضے لئے گئے ہیں ،ہم نے آج سے بارہ سال قبل کہا تھا کہ عمران خان پاکستانی سیاست کا ایک غیر ضروری عنصر ہے جس کے ذریعے ملک کو گروی رکھا جائیگا، آج ڈالر کا ریٹ 179 تک پہنچ چکا ہے،ابھی چیلنج یہ ہے کہ عمران کے بعد دوبارہ اس معیشت کو وہاں لیجایا جائے جہاں پہلے تھا اس چیلنج کو قبول کون کرےگا ؟۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اس سے پہلے جب ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کی حکومت تھی تو اس کا حکمران بس میں لاہور آیا تھا ہم سے تجارت کرنے کیلئے ،  آج بھی بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے لیکن  ابھی ان کا رویہ کیا ہے ؟یہ مودی کو دعا دینے والا اور اسکی کامیابی کی امیدیں کرنے والے سے معلوم کرو کہ آج کشمیر کہاں ہے ؟70سال سے ہم نے ان کے خون عزت و قربانیوں کو بیچا اور ہم نے بغیر کسی عوض کے ان کو بیچ دیا ،دنیا کے کسی حکمران نے کسی قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ نہیں کیا جتنا بڑا دھوکہ عمران خان نے کشمیریوں کے ساتھ کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا نوجوان بہت مظلوم ہے، اسکو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دے کر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار کیا گیا ،پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن پچاس لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا گیا ،نعروں سے ملک نہیں چل سکتا ،جو حکومت خود دھاندلی کے ذریعے آئی وہ خود دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے حالانکہ اس مشین کو پوری دنیا مسترد کر چکی ہے۔ 

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -لاڑکانہ -