جیتن داس کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھا،اس کی لاش لینے سبھاش چندر بوس لاہور پہنچے

جیتن داس کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھا،اس کی لاش لینے سبھاش چندر بوس لاہور پہنچے
جیتن داس کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھا،اس کی لاش لینے سبھاش چندر بوس لاہور پہنچے

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:117

2 ستمبر کو حکومت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے پنجاب جیلز انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ بھگت سنگھ اور دت کی بھوک ہڑتال کو 81 دن اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو 55دن ہو چکے تھے۔ کمیٹی کے اعلان کے نتیجے میں ما سوائے جتیندر ناتھ داس (عرف عام میں جیتن داس)کے بھوک ہڑتال کے خاتمے کا ا علان کر دیا۔تاہم چند روز بعد جب حکومت نے اپنی ہی کمیٹی کی سفارشات ماننے سے انکار کر دیا تو بھوک ہڑتال دوبارہ شروع کر دی گئی۔ اس دوران جیتن کی حالت مزید خراب ہوگئی۔تاہم وہ جسمانی طور پر جتنا نازک تھا قوت ارادی کے لحاظ سے اتنا ہی مضبوط ثابت ہوا۔

احرار کے معروف سیا سی رہنما چوہدری افضل حق جیلز انکوائری کمیٹی کے غیر سرکاری رکن تھے۔انہوں نے جیل میں ملاقات کے دوران بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے جیتن داس کی زندگی کے آخری لمحات اور اس کی مستقل مزاجی کی یوں تصویر کشی کی ہے ۔ ”نوجوان داس آنکھیں بند کیے سٹریچر پر پڑا تھا۔اگرچہ زندگی کے دن گن رہا تھا مگر اجتماع کے مقصد سے بے خبر نہ تھا۔جب وہ آنکھیں کھولتا تھا ہاتھ سے ساتھیوں کو نفی کا اشارہ کرتا تھا کہ بات نہ مانو،موت قبول کر لو۔مجھے محسوس ہوا داس امید کی سرحد سے پار ہو چکا ہے۔میں نے ڈاکٹر سے پوچھا آیا یہ جانبر ہو سکتا ہے۔اس نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا ممکن ہے مگر یقینی نہیں۔وہ جبری خوراک کے دوران بھی سخت مزاحمت کرتا رہا ہے۔وہ پہلے ہی کمزور تھا۔اب تو فاقے نے موت کے منہ میں لا ڈالا ہے۔۔۔3 گھنٹے کی طویل گفتگو کے بعد بھگت سنگھ کا سٹریچر اس کے سٹریچر کے قریب لایا گیا۔چونکہ بھگت سنگھ خود بھی نحیف و کمزور تھا اس نے اپنا منہ داس کے کان کے قریب لے جا کر کچھ کہا۔ لیکن داس نے تیوری چڑھا کر ہاتھ نفی میں ہلا دیاہم سمجھ گئے کہ سب ترک فاقہ پر آمادہ ہو گئے ہیں لیکن داس اس منزل پر بڑھے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اب ہم قریب آگئے۔داس کو خود سمجھانے لگے۔جب میں اس پر جھکا تو دیرینہ آشنا کو دیکھ کر ہلکا سا تبسم اس کے چہرے پر کھیلنے لگا۔زبان سے بولنے کی طاقت نہ رکھتا تھا تاہم ہاتھ کے معروف اشارے سے مجھے نا امید کر دیا۔“

13 ستمبر کوجب اس کاانتقال ہوا تو یہ اس کی بھوک ہڑتال کا تریسٹھواں دن تھا۔جیتن داس کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھا۔ اس کی لاش لینے سبھاش چندر بوس لاہور پہنچے۔انہیں کئی لو گ گاندھی کے بعد کانگرس کا سب سے بڑا لیڈر تصور کرتے تھے۔کلکتے جاتے ہوئے ٹرین جس سٹیشن سے بھی گذری لوگ جیتن داس کی ارتھی کے استقبال کے لیے امڈ آئے۔ ٹرین کلکتہ پہنچی تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا جلوس اس کا منتظر تھا۔ جیتن داس کی موت کی بازگشت سنٹرل اسمبلی میں بھی سنی گئی جہاں اس وقت حکومت بھوک ہڑتالیوں سے نمٹنے کے لیے قانون شہادت میں تبدیلی کرانے کی کوشش میں مصروف تھی۔اس کی موت نے اسمبلی کی کارروائی کو متاثر کیا۔ سواراج پارٹی اسمبلی میں نمائندے ایم آر جیا کر نے جیتن داس کے آخری لمحات کی جو تصویر کشی کی اس نے اسمبلی کے اندر بھی اور باہر بھی گہرا تاثر پیدا کیا۔

”جیتن داس کی موت قدم بقدم، انچ انچ کر کے ہوئی۔خوراک نہ ملنے کی وجہ سے پہلے اس کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا پھر دوسرا بے جان ہوگیا ، پھر وہ ایک پاﺅں سے محروم ہو، اور بھر دوسرے سے۔ اس کے بعد وہ فطرت کی طرف سے دیئے گئے آخری تحفے یعنی بینائی سے ہاتھ کھو بیٹھا۔ اس کی آنکھوں کی روشنی آہستہ آہستہ ختم ہوئی۔ اس کی موت جلاد کی تلوار سے واقع نہیں ہوئی جو فوری اور اس لحاظ سے مرنے والے کے لیے باعث رحمت ہوتی ہے بلکہ اس آہستگی سے ہوئی جو فطرت کے تخلیقی اور تخریبی عمل میں نظر آتی ہے۔اس طویل ٹارچر کا عذاب کس قدر شدید ہوگا۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -