مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے،میری بیوی مر جائے گی،میں مجبور ہو ں

مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے،میری بیوی مر جائے گی،میں مجبور ہو ں
مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے،میری بیوی مر جائے گی،میں مجبور ہو ں

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:89

”میڈم ہاپٹ۔ ماہرِ زچگی“ ایک سیلون کی دوسری منزل کی کھڑکی کے باہر یہ کتبہ ٹنگا ہوا تھا۔دروازے کے ساتھ ہی ہاتھ کا نشان بناتھا جو اوپر کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ یورگس ایک وقت میں تین تین سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چلا گیا۔

میڈم ہاپٹ سؤر کا گوشت اور پیاز بھون رہی تھی۔ اس نے دھویں کے اخراج کے لیے دروازہ ادھ کھلا چھوڑ رکھا تھا۔ یورگس نے اسے کھٹکھٹانا چاہا تو وہ خود ہی پورا کھل گیا۔ یورگس کی اُس پر پہلی نظر پڑی تو اس نے ایک سیاہ مشروب کی بوتل مونھ سے لگا رکھی تھی۔ یورگس نے زور سے دستک دی تو وہ چونکی اور بوتل ایک طرف رکھ دی۔ وہ ایک جرمن عورت تھی، کافی بھاری جسم والی۔ چلتی تو یوں لگتا جیسے سمندر میں کشتی لڑھک رہی ہو۔ اس نے گندا سا نیلا کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔ اس کے دانت بھی سیاہ پڑ چکے تھے۔

” کیا کام ہے ؟ “ اس نے یورگس کو دیکھ کر پوچھا۔

سارا راستہ پاگلوں کی طرح دوڑنے کی وجہ سے یورگس کو اتنا سانس چڑھا ہوا تھا کہ اسے جواب دینے میں مشکل ہوئی۔اس کی آنکھیں پھٹی ہوئیں اور بال بکھرے تھے۔ اسے دیکھے سے یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی قبر سے اٹھ کر بھاگا ہو۔ ” میری بیوی !“ اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ” جلدی آؤ ! “

میڈم ہاپٹ نے فرائی پان ایک طرف رکھ کر اپنے کپڑوں سے ہاتھ پونچھے۔ ” تم مجھ سے کوئی کیس کروانا چاہتے ہو ؟ “ اس نے پوچھا۔

”ہاں۔“ یورگس نے جلدی سے کہا۔

” میں ابھی ایک کیس بھگتا کر آئی ہوں۔ “ میڈم نے جواب دیا ” مجھے تو کھانا کھانے کی فرصت بھی نہیں ملی۔ لیکن۔۔۔ اگر کوئی۔۔۔ ایمرجنسی ہے تو۔۔۔ “ 

” ہاں ایمرجنسی ہے ! “ وہ چلایا۔

” اچھا تو۔۔۔ پھر شاید۔۔۔ کیا کہا تم نے ؟ “

” وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ کتنے پیسے لگیں گے ؟ وہ ہکلایا۔

” 25 ڈالر۔ “

یورگس کا مونھ لٹک گیا۔ ” اتنے پیسے میں نہیں دے سکتا۔“ اس نے جواب دیا۔

وہ عورت اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ ” پھر کتنے دے سکتے ہو ؟ “ اس نے پوچھا۔

” پیسے مجھے ابھی دینے پڑیں گے ؟ اسی وقت ؟ “ 

” ہاِں بھئی سارے گاہک ایسا ہی کرتے ہیں۔“

” میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، “ یورگس نے خوف کی اور خدشے کی اذیت میں تڑپتے ہوئے کہا، ”میں کسی مشکل میں تھا۔۔۔ میرے سارے پیسے لگ گئے ہیں۔ لیکن میں تمھیں سارے پیسے دے دوں گا۔ جتنی جلدی ہو سکاایک ایک پیسا واپس کردوں گا۔ میں کام کر سکتا ہوں۔۔۔ “

” کیا کام کرتے ہو ؟ “ 

” ابھی تو کوئی نہیں کرتا۔ لیکن مجھے جلدہی کام مل جائے گا۔ میں۔۔۔ “ 

” اس وقت تمھارے پاس کتنے پیسے ہیں ؟ “

اسے جواب دینا مشکل ہو گیا۔جب اس نے کہا کہ ” سوا ڈالر۔ “ تو عورت زور سے ہنسی۔ 

” ابھی میرے پاس اتنے ہی ہیں۔ “ اس نے شکستہ آواز میں کہا۔” مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے۔ میری بیوی مر جائے گی۔میں مجبور ہو ں۔۔۔ میں۔۔۔ “ 

میڈم ہاپٹ نے دوبارہ پیاز اور سؤر کا گوشت چولھے پر چڑھا دیا پھر اس کی طرف پلٹ کر بولی۔ ”10 ڈالر ابھی دو، باقی اگلے مہینے دے دینا۔ “

” میں نہیں دے سکتا، میرے پاس اور پیسے نہیں ہیں۔ “ یورگس نے جواب دیا ” میرے پاس صرف سوا ڈالر ہے۔“ 

عورت اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ ” مجھے تمھاری زبان پر بھروسا نہیں ہے۔ “ وہ بولی ” تم مجھے دھوکا دینے کے لیے جھوٹ بول رہے ہو ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ تم جیسے ہٹے کٹے آدمی کے پاس صرف سوا ڈالر ہو۔“ 

” میں ابھی جیل سے نکلا ہوں۔“ یورگس نے فریاد کے انداز میں کہا۔ لگتا تھا وہ اپنے گھٹنوں پر گر کر منتیں کرنے لگے گا۔۔۔” پہلے بھی ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ میرے گھر والے فاقے کرتے تھے۔“

” تمھارے ملنے جلنے والے کہاں ہیں ؟ انھیں تمھاری مدد کرنی چاہیے تھی۔“ 

” وہ بھی سب غریب ہیں۔ “ یورگس نے جواب دیا ” انھوں نے ہی یہ دیے ہیں۔ میں نے پوری کوشش کی لیکن اور نہیں ملے۔۔۔ “ 

” تمھارے پاس بیچنے کو بھی کچھ نہیں ؟ “

” میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میرا یقین کرو۔۔۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخا۔

” کسی سے ادھار بھی نہیں لے سکتے ؟ کوئی دکان دار بھی تم پر بھروسا نہیں کرتا ؟ “ یورگس کو نفی میں سر ہلاتے دیکھ کر اس نے بات جاری رکھی۔ ” سنو میری بات !۔۔۔ اگر میں تمھارے ساتھ جاو¿ں تو تمھیں خوشی ہوگی نا۔۔۔ تمھاری بیوی اور بچے کی جان بچ جائے گی۔۔۔ لیکن بعد میں تم کہو گے یہ کون سا بڑا کام تھا۔ اگر وہ مر جائیں تو تمھیں کیسا لگے گا ؟ میں تمھارا کام کر سکتی ہوں۔ چاہے تو باہر جا کر لوگوں سے میرے بارے میں پوچھ لو۔۔۔ “ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -