”خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے، دشمنوں کا بندوبست میں خود کر لوں گا“

”خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے، دشمنوں کا بندوبست میں خود کر لوں گا“
”خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے، دشمنوں کا بندوبست میں خود کر لوں گا“

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:46

اب فرنے براعظم کا علمی دارالخلافہ بن چکا تھا۔ روشن خیال امراءاور پڑھی لکھی خواتین اس سے ملنے کے لئے آتیں۔ سویڈن اور ڈنمارک کے حکمران اس سے خط و کتابت کرکے فخر محسوس کرتے۔ روس کی ملکہ کیتھرین اسے نفیس اور نادر تحائف بھیجتی۔ حتیٰ کہ فریڈرک نے بھی اس سے معذرت کی اور دوبارہ نیاز مندی کے حلقہ میں داخل ہو گیا۔ کئی بار تو ملنے والے اس کے گھر پر اس قدر یورش کرتے کہ وہ تنگ آ جاتا۔ ایک بار اس نے کہا:

”خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے، دشمنوں کا بندوبست میں خود کر لوں گا“

ہاں تو میں نے عرض کیا تھا کہ فرنے میں آخر اس نے وہ علمی کارنامے انجام دئیے، جو اس آج تک زندہ جاوید بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کاندید کی تخلیق بھی ہے۔ میں کاندید کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ مگر اس سے پہلے لزبن کے مشہور ِ عالم زلزلے کے متعلق بات ہو جائے۔۔۔لزبن پرتگال کے دارالحکومت کا نام ہے۔ جہاں 1755ءمیں ایک ہولناک زلزلہ آیا تھا۔ یہ زلزلہ ایک مذہبی تہوار کے دن آیا، جب شہر کے گرجے پرجوش عبادت گزاروں سے بھرے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس زلزلے نے30 ہزار افراد کو نگل لیا۔ بعد میں جب لوگ سوچ و بچار میں پڑ گئے کہ یہ سب کچھ کیا تھا اور کیوں کر ہوا تو دو طرح کے نقطۂ نظر سامنے آئے۔ ایک طرف تو وہ لوگ تھے، جو کہتے تھے کہ یہ دنیا تمام امکانی نقشوں میں بہترین ہے، فطرت کی خرابیاں بھی اس کا ناگزیر حصہ ہیں اور یہاں یہ جو کچھ ہوتا ہے،وہ درست ہے۔ یہ نقطۂ نظر مذہبی طرزِ فکر رکھنے والے لوگوں کے مؤقف سے بھی نزدیک تر تھا، جو یہ کہتے تھے کہ یہ سب کچھ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ دوسرا نقطۂ نظر اس کے بالکل برعکس تھا۔اس کے مطابق اگر یہ دنیا تمام امکانی دنیاوں میں بہترین ہے تو پھر کیوں ہزاروں معصوم لوگ عبادت کرتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہ کیسا خدا ہے، جو بے نیازی سے اپنی مخلوق کو روند ڈالتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر خدا سر تا پا خیر ہے تو پھر دنیا میں اس قدر ظلم اور نا انصافی کیوں ہے اور قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ شر کو ختم کیوں نہیں کرتا۔ دراصل ان مصائب کو دیکھ کر خدا کی موجودگی کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے کہ اگر کائنات کے پیچھے کوئی منظم قوت موجود ہے تو پھر دکھ، ظلم اور ناانصافی کے وجود کا کیا جواز ہے۔ والٹیربھی اسی متذبذب نقطۂ نظر کا شکار ہوا اور اس نے زلزلے کے چند دنوں بعد لکھی گئی اپنی نظم ”لزبن کی آفت پر نظم “میں کلیسائی دانشوروں کو چیلنج کیاکہ اگر تمہارا خدا شر کو ختم کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو پھر اس دنیا سے شر ختم کیوں نہیں ہوتا۔

اپنی مشور نظم تو والٹیرنے سوئٹزر لینڈ کے قیام کے دنوں میں لکھی تھی، مگر تقریباً یہی خیالات تھے جو اس نے تھوڑے عرصے بعد فرنے کے قیام کے دوران لکھے گئے اپنے ناول، یا داستان،یا اسے جو بھی کہہ لیں، میں پیش کئے۔ کاندید پہلے 1759ءمیں شائع ہوئی، بہت سی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ اردو میں پہلے پہل اس کا ترجمہ مشہور ترقی پسند ادیب سجاد ظہیر نے کیا اور اسے 1957ءمیں مکتبۂ جامعہ، دہلی نے شائع کیا۔ میرے پاس اسکا جو ترجمہ موجود ہے، وہ بشیر ساجد نے کیا ہے اور اسے 1964ءمیں مکتبۂ جدید نے شائع کیا۔ خیر، اس ناول کے دو بڑے کردار ہیں۔ ایک تو ڈاکٹر پنگلاس ہے، جو امید پرستی کے فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے۔ دوسرا مارٹن ہے، جو یاس پرستی کا نمائندہ ہے۔ اپنے اس ادبی شاہکار میں والٹیرکائنات میں انسان کے مفروضہ اعلیٰ ترین مقام کا تو یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ انسانوں کی دنیا میں کسی اعلیٰ قدر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہر جگہ وہ مطلب پرست اور مکار حیوان کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ بطور مصنف نہ تو وہ رجائیت کی حمایت کرتا ہے اور نہ یاسیت کو قبول کرتا ہے،بلکہ یہ کہہ کر اس جیسی تیسی دنیا کو قبول کرنے کا مشورہ دیتا ہے کہ ہمیں اپنے باغ کی دیکھ بھال کرنا چاہیے۔ آئیے اس ناول کا آخری پیرہ گراف پڑھیں، جس کے آخر میں متذکرہ بالا فقرہ بھی بیان کیا گیا ہے:

”۔۔۔ان کی کوششیں بار آور ہوئیں اور فارم کی تھوڑی سی اراضی سے بہت سی پیداوار ہونے لگی۔ بے شک کونگند بدصورت ہو گئی تھی، مگر مٹھائیاں اور پیسٹریاں بنانے میں بڑی ہوشیار تھی۔ پیکی کشیدہ کاری کرنے لگی اور بڑھیا ان کے کپڑے وغیرہ کی ضروریات کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اب فارم پرکوئی ایسا شخص نہیں رہا،جو کسی نہ کسی کام میں نہ لگا ہو۔ راہب بہت اچھا بڑھئی ثابت ہوا اور ایمانداری کی زندگی گزارنے لگا۔ پنگلاس کبھی کبھی کاندید سے کہا کرتا کہ اس بہترین امکانی دنیا کے تمام واقعات ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔ ہر گذشتہ واقعہ آئندہ واقعے سے خاص ربط رکھتا ہے چنانچہ اگر میڈم کونگندکی محبت کے جرم میں تم ترانخ کے قلعے سے نکالے نہ گئے ہوتے، محکمہ احتساب کے چنگل میں نہ پھنسے ہوتے، امریکہ میں پا پیادہ سفر نہ کیا ہوتا، کونگند نے بھائی کے پیٹ میں چھرا نہ گھونپا ہوتا اور جو بھیڑیں تم فردوسی وادی سے لائے تھے، وہ سب کہیں کھو نہ گئی ہوتیں تو تم یہاں پہنچ کر بچے ہوئے چکوترے اور پستے نہ کھاتے۔

کاندید جواب دیتا: 

”تم نے خوب کہا، لیکن آؤ، ہم اپنے باغ کی دیکھ بھال کریں“(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -