ہم نے بڑھ کر دشمن کا سر کچلنے کے بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دی

ہم نے بڑھ کر دشمن کا سر کچلنے کے بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دی
ہم نے بڑھ کر دشمن کا سر کچلنے کے بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دی

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:63

بّری جنگ کی کارروائیاں سالک نے تفصیل سے لکھیں ہیں اس ضمن میں انہوں نے فوجی افسروں کی شجاعت اور بزدلی کا مدلل بیان کیا ہے مثلاً جیسور سیکٹر کے بریگیڈ ئر محمد حیات کی فوجی کارروائی بیان کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دانستہ پسپائی اختیار کر رہے تھے لکھتے ہیں:

”مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بریگیڈئر حیات نے یہ پرائیویٹ جنگ بڑی مہارت سے لڑی اور وہ دشمن کا ایک ڈویژن اپنے تعاقب میں دولت پور تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ “

اس کے علاوہ کرنل فضل حمید ‘ کمانڈر گل زریں ‘ بریگیڈئر منظور نے بھی مزاحمت کے بغیر دفاعی انداز اپنایا اور علاقہ خالی کرکے پیچھے ہوتے رہے۔ چاند پور سیکٹر کے لیفٹیننٹ کرنل زیدی لیفٹیننٹ کرنل اشفاق سید ‘ کرنل نعیم اور ایک لیفٹیننٹ کرنل جن کانام نہیںلکھا نے عین جنگ میں16 دسمبر سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دئےے تھے اور بھارتی قید میں چلے گئے تھے لیکن سالک نے تصویر کا روشن رخ بھی دکھایا ہے ”نشان حیدر“ پانے والے میجر محمد اکرم کی شجاعت کی کہانی بھی بیان کی ہے جنہوں نے بڑی پامردی سے 4 دن تک دشمن کو روکے رکھا اور بالآخر جام شہادت نوش کیا۔ حوالدار حکم داد کی بہادری کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے جس نے اپنے افسر کے حکم کے باوجود حملہ جاری رکھا اور دشمن نے اسے مورچے میں آکر ہی ختم کیا۔ اسی طرح میمن سنگھ سیکٹر کے میجر محمد ایوب کی ہمت کی داد دی ہے جو پوسٹ پر کمک پہنچانے کی کوشش میں شہید ہوئے۔

اس کے علاوہ جنگ کی ناکامی کے ضمنی اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جن میں ”مکتی باہنی“ اورمقامی بنگالی آبادی شامل ہیں غیر تربیت یافتہ نفری کا اگلی صفوں میں ہونا بھی نامناسب تھا کیونکہ حملے کی صورت میں وہ سب سے پہلے حوصلہ ہارتے جس سے فوجیوں کے مورال پر برا اثر پڑتا مجموعی طور پر فوج کے کردار کے متعلق ان کا کہنا ہے:

”ہم نے بڑھ کر دشمن کا سر کچلنے کے بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دی۔ “ 

فوج کے اس رویئے کی بڑی وجہ اعلیٰ قیادت کا رویہ تھا مثلاً میمن سنگھ سیکٹر کے بریگیڈ ئر قادر کو جنرل جمشید کی طرف سے پسپائی کا حکم ملا جب بریگیڈئر قادر نے اس کے متعلق ان سے بات کرنا چاہی تو سٹاف آفیسر نے بتایا کہ ”جنرل صاحب پوچھ رہے ہیں پسپائی کس وقت شروع ہو گی۔“ یعنی جنرل صاحبان آگے بڑھنے کے بجائے پسپائی کا وقت پوچھ رہے تھے۔

سالک نے اپنے معتوب کردار جنرل نیازی کی ”خصوصیات“ کی ایک اور جھلک دکھائی ہے کہ فتح کے بلندو بانگ دعوے کرنے والے جنرل نیازی جنگ کے چوتھے دن گورنر ہاﺅس میں گورنر عبدالمالک کے سامنے ہچکیاں لے لے کر رو رہے تھے۔ جس کی خبر چائے لے جانے والے بنگالی بیرلے نے عام کردی۔ سالک اس واقعے کے چشم دید گواہ نہیں لیکن9دسمبر کو ان سے ملاقات کے بارے میں سالک رقمطراز ہیں:

”انہوں نے کہنیاں اپنی میز پر گاڑرکھی تھیں اور سر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھا ہوا تھا باہر سے آنے والے کو چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا تھا اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس وقت واقعی رو رہے تھے۔ البتہ ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس جملے سے ہوتا ہے جو انہوں نے اس موقع پر مجھ سے کہا انہوں نے فرمایا! سالک ! شکرکرو کہ تم آج جرنیل نہیں ہو“۔ اس سے بے شک ان کے گہرے کرب کا احساس ہوتا تھا وہ مجھے بے بس لگے میَں وہاں سے چلا آیا لیکن ساری رات ان کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے مجھے ان پر بہت ترس آیا۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -