مولانا ظفر علی خان عاشق رسول، عظیم شاعر اور ادیب تھے، علماء

  مولانا ظفر علی خان عاشق رسول، عظیم شاعر اور ادیب تھے، علماء

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 لاہور(نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، پیررضوان نفیس، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبدالنعیم، مولانا حافظ محمداشرف گجر، مولانا خالد محمود نے عظیم صحافی و شاعر مولانا ظفر علی خاں کے یوم وفات کے سلسلے میں تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ مولانا ظفرعلی خان تحریک ختم نبوت کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے وہ ایک نابغہء روزگار، عبقری شخصیت، بابائے صحافت، بطل حریت، عاشق رسول، مبلغِ اسلام، علمبردارِ ختم نبوت، مجاہد آزادی، عظیم شاعر اور ادیب تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کرکے نبوت کے جھوٹے دعویدار کا پردہ چاک کیا۔ فتنہ قادیانیت کے خلاف مولانا ظفر علی خانؒ نے بے مثال جدوجہد کی1974ء میں قادیانیوں کواقلیت قرار دیا جانا مولانا ظفر علی خانؒ کی کوششوں کا تسلسل تھا۔ عشق رسول اور ملت اسلامیہ کی سربلندی کے لئے مولانا ظفر علی خاں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
 وہ اپنے قلم سے اِن تحریکوں کو ایک جنگ کا درجہ دے دیتے تھے اور خوداس جنگ کے سپہ سالار بن جاتے تھے۔مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنی پوری قوتِ ایمانی سے ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔ مولانا ظفر علی ایک بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے، جب غازی علم الدین شہید کی شہادت کا مرحلہ آیا تو مولانا نے اس موقعہ پر اپنی شاعری کے ذریعے دنیا بھر کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ علماء نے کہا کہ چونکہ رسولِ اکرم ﷺ ختمِ نبوت غیرتِ ایمانی کا مسئلہ تھا جس پر مولانا ظفر علی خان نے ”زمیندار“ کے صفحات کو وقف کررکھا تھا اور آپ نے اس موضوع پر سینکڑوں نظمیں اور ہزاروں اشعار کہے جو آپ کے مجموعہ ”ارمغانِ قادیاں“ میں شامل ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں نے تحریک تحفظ ختم نبوت میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قادیانیت کے کفر و ارتداد کو قلم کے ذریعے طشت از بام کیا وہ ایک سچے عاشق رسول تھے آج مولانا ظفرعلی خان کے کردارو افکار کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔