ایران میں مظاہرے جاری، باسیج ہیڈ کوارٹڑ نذرآتش، خامنہ ای کی بھانجی گرفتار

  ایران میں مظاہرے جاری، باسیج ہیڈ کوارٹڑ نذرآتش، خامنہ ای کی بھانجی گرفتار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        تہران (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) ایران میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہونیوالے مظاہرے جاری، متعدد یونیورسٹیوں میں زبردست احتجاج کیا گیا اور حکومت کے جابرانہ طرز عمل کی شدید مذمت کی دارالحکومت تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں طلبہ نے حکام کی جانب سے اپنے متعدد ساتھیوں کی گرفتاری کیخلاف احتجاجی دھرنا دیدیا،دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈرکی بھانجی فریدہ مرادخانی نے مھسا امینی کی پولیس ہلاکت کے بعد ملک بھر میں جاری حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مظاہرین کیساتھ کھڑا ہونے کا مطالبہ کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بہن بدری خامنہ ای کی بیٹی فریدہ مراد خانی نے ویڈیو پیغام میں ایرانی حکومت کو خواتین اور بچوں کی قاتل قراردیدتے ہوئے عالمی برادری سے مظاہرین کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹوئٹر پر فریدہ مراد خانی کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو چار دن پرانی ہے اور اس ویڈیو کے اپ لوڈ کرنے کے دوسرے روز ہی سکیورٹی فورسز نے میری بہن کو گرفتار کرلیا جو تاحال نامعلوم مقام پر قید ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فریدہ مراد خانی نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ تمام آزادی پسند ممالک مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران سے اپنے تمام سفارتی نمائندوں کو واپس بلالیں اور اس ظالم حکومت کے نمائندوں کو اپنے ملک بدر کر دیں۔خیال رہے فریدہ مراد خانی ماضی میں بھی حکومت کی ناقد رہی ہیں جس کے باعث 2018 اور رواں برس کے آغاز میں بھی گرفتار ہوئی تھیں۔ تہران کی علامہ طباطبائی یونیورسٹی میں بھی فیکلٹی آف آرٹس کے طلبہ نے خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے کالج کو نارنجی رنگ کی علامتوں سے سجا دیا انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی "ھرانا" نے "اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی" کے سیکٹروں طلبا کے مارچ کے مناظر بھی شائع کیے جو ایرانی حکام کیخلاف نعرے لگا رہے تھے دوسری طرف اسلامی تنظیموں کے طلبہ کی یونین نے تصدیق کی کہ تہران کی "یونیورسٹی آف سائنس اینڈ کلچر" کے طلبہ نے صوبہ کردستان کے عوام کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ایک مظاہرہ کیا اور صوبے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کے قتل کی شدید مذمت کی البرز صوبے میں خوارزمی یونیورسٹی نے ایرانی صوبوں کے لوگوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ایک طلبہ مارچ کا انعقاد کیا تھا جس میں مظاہرین نے حکام کیخلاف نعرے بازی کی۔مظاہرین نے صوبہ بوشہر کے شہر برزجان میں باسیج کے ہیڈکوارٹر کو بھی آگ لگا دی اور تہران کے جنوب میں قرچک میں قاسم سلیمانی کی تصویر کو نذر آتش کیا۔ دوسری جانب ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہر فسادی، دہشتگرد کو سزا ضرور ملے تو سڑکوں پر موجود چند فسادی مسئلہ نہیں پیرا ملٹری فورسز سے خطاب کرتے ہوئے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا امریکہ سے بات چیت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اخبارات، سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے امریکہ سے گفتگو ہی حالیہ مسائل کا حل ہے، حالیہ صورتحال امریکہ سے بات کرنے سے ختم نہیں ہوگی، حکومت کی حمایت میں ہونیوالے بڑے اجتماعات ایرانی عوام کی آواز ہیں، جنگی میدان بہت وسیع ہے، اصل دشمن عالمی انا ہے۔
ایران احتجاج 

مزید :

صفحہ آخر -