رحیم یارخان، خاتون ٹیچر کوہراساں کرنے پر استا د کیخلاف مقدمہ درج

رحیم یارخان، خاتون ٹیچر کوہراساں کرنے پر استا د کیخلاف مقدمہ درج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


رحیم یار خان (بیورو رپورٹ)ملازمت پیشہ خواتین جنسی ہراسانی کا شکار ہونے لگیں سکول لیڈی ٹیچر کو ہراساں کرنے پر میل ٹیچر کے خلاف مقدمہ درجپولیس نے تفتیش شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق رحیم یار خان سمیت پنجاب بھر میں رواں ہفتہ خواتین کے ساتھ نا(بقیہ نمبر5صفحہ6پر)
انصافی ہراسانی گھریلو تشدد بارے شعور اور حقوق سے آگہی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان نے تین روز قبل دارلامان میں منعقدہ تقریب میں خواتین پر تشدد اور جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے تاہم سرکاری اداروں میں ہی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔رحیم یارخان کی رہائشی سیدہ کنول گرلز پرائمری سکول میں بطور ٹیچر پڑھاتی ہے جبکہ شہزاد احمد بوائز پرائمری سکول میں ٹیچر ہے۔ سیدہ کنول نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد ویہہ نے مجھے واٹس ایپ پر اور کالز کر کے شدید پریشان کر رکھا تھا جس کی وجہ سے میں ذہنی کوفت میں مبتلا تھی۔ سید برادری کی وجہ سے پہلے میں چپ رہی جب بات حد سے گزر گئی تو میں نے اپنے خاوند کو بتایا کہ شہزاد مجھے واٹس ایپ کالز کے ذریعے اور میرا راستہ روکتا ہے۔ 20اکتوبر کو شہزاد شہاب اور توقیر سکول کے باہر آ گئے شہزاد ویہہ نے گیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا چوکیدار نے گیٹ کھولا اور پوچھا کہ کیا کام ہے جس پر وہ اشتعال میں آ گیا اور کہا کہ مجھے نہیں جانتے دور ہٹو اور چوکیدار کو دھکا دے کر سائیڈ پر کر کے اندر داخل ہو گیا۔ کنول نے بتایا کہ ہیڈ ٹیچر شمشاد بانو نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو اس سے بدتمیزی کی اور میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے مجھے دھمکیاں دینے لگا۔ اسی اثنا میں چوکیدار اور میرا خاوند حسنین عباس آ گئے انہوں نے اسے روکا پھر وہ مشتعل ہو کر دھمکیاں دیتے ہوئے چلا گیا۔ مس کنول نے کہا کہ چند ہفتے پہلے شہزاد ویہہ مجھے واٹس ایپ پر بلیک میل اور جنسی ہراسانی پر اکساتا رہا کئی بار مجھے دھمکیاں دیں کہ سی او ایجوکیشن کے ساتھ میرے قریبی تعلقات ہیں آپ کو نوکری سے فارغ کرادوں گا۔ مس کنول نے متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس ایچ او آباد پور نے شہزاد ویہہ شہاب اور توقیر پر زیر دفعہ354506186 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ اس سارے معاملے پر محکمہ تعلیم کے ذمہ داران نے شدید دبا پر چپ سادھ رکھی ہے۔