تعمیراتی دنیا میں پائیدار انجینئر نگ کا مرکزی کردار رہا ہے: مرتضی وہاب 

تعمیراتی دنیا میں پائیدار انجینئر نگ کا مرکزی کردار رہا ہے: مرتضی وہاب 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       کراچی (سٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تعمیراتی دنیا میں پائیدار انجینئرنگ کا مرکزی کردار رہا ہے، پائیدار انجینئرنگ اور ترقی وقت کی ضرورت اہم ہے، ترقی یافتہ ممالک میں پائیدار انجینئرنگ اور ترقی کے مثبت اثرات دیکھے جاسکتے ہیں، اس نوعیت کی عالمی کانفرنسز سے شہری مسائل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور وقت سے ہم آہنگ تعمیر و ترقی سے ہی ہم اقوام عالم کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں دو روزہ عالمی کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر این ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سروش لودھی، سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین، اساتذہ کرام اور کانفرنس کے مندوبین بھی موجود تھے، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ اس عالمی کانفرنس کے دور رس نتائج حاصل ہوں گے اس کانفرنس کے انعقاد میں حکومت سندھ کا تعاون بھی شامل تھا، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے، پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کی زد میں ہے،انہوں نے کہا کہ توانائی، پانی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل کے پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ترقی پذیر ممالک نے پائیدار صنعتی عمل جدید تکنیکی طریقوں کو اپنایا ہوا ہے جو کہ ترقی پذیر ممالک کے لئے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مختلف ممالک کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے لئے بہتر انجینئرنگ انتظام اور عملی پالیسیاں اپنانا بھی ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیش آنے والے خطرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جدید ٹیکنالوجی، پائیدار انجینئرنگ اور ترقی کے بہتر استعمال سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا نے موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے ابھی عمل نہیں کیا تو شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی، سیلاب اور خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری سے عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، ایشیاء اور بالخصوص پاکستان میں ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سب سے اہم کا م انسانوں کو شعور دینا ہے اس مقصد کے لئے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں مختلف پروگرامز، سیمینارز اور کانفرنسز میں اس موضوع کو زیر بحث لا کر آنے والی نسل کی ذہن سازی کرنی چاہئے اور انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی فراہم کرنی چاہئے،بعد ازاں ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے عالمی کانفرنس کے شرکاء میں سوینئرتقسیم کئے۔

مزید :

صفحہ اول -