ابھی تو قومی اسمبلی کے استعفے مراحل میں ہیں، پنجاب اسمبلی توڑناآسان نہ ہوگا، لیاقت بلوچ

  ابھی تو قومی اسمبلی کے استعفے مراحل میں ہیں، پنجاب اسمبلی توڑناآسان نہ ...
  ابھی تو قومی اسمبلی کے استعفے مراحل میں ہیں، پنجاب اسمبلی توڑناآسان نہ ہوگا، لیاقت بلوچ

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)نائب امیر جماعت اسلامی،صدر قائمہ کمیٹی سیاسی، قومی امور لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی معاشی بحران عروج پر ہیں۔ پاک فوج قیادت تبدیلی کا اچھا عمل سیاسی بحران ختم نہیں کرسکتا۔ ڈائیلاگ کے ذریعے ہی متفقہ تاریخ کے مطابق شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات سے بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہے۔  ابھی تو قومی اسمبلی کے استعفے ہی تکمیل کے مراحل میں ہیں، پنجاب اسمبلی توڑنے، استعفے دینے کا مرحلہ آسان نہ ہوگا۔سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں میں بھی استعفوں کے لاحاصل ایکسرسائز ہونگے،خیبر پختونخوا بھی استعفوں کے بعد نئے بحران کی بنیاد بنے گا، اسی کشمکش میں آئینی مدت میں نئے انتخابات کا مرحلہ آجائے گا۔انتخابی اصلاحات، اسٹیبلشمنٹ کی بے دخلی اور شفاف و غیرجانبدارانہ انتخابات کے لئے سیاسی جمہوری قوتوں کی اتفاق رائے کے بغیر انتخابات نئے، فساد، تباہی و بربادی کا دروازہ کھولیں گے۔ عمران خان کا دھرنا، لانگ مارچ اپنے انجام کو پہنچا، ماضی کے لانگ مارچ کی طرح بے نتیجہ ہی رہا۔ سیاست دانوں کی مہارت، اہلیت اور سیاسی قابلیت کا محاذ ڈائیلاگ کا میز ہی ہے۔

لیاقت بلوچ نے لاہور میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ملک میں معاشی بحران بڑھ رہا ہے، قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل بے حسی کا شکار ہے۔دوست ممالک اور امداد دینے والے ادارے بھی پاکستان کی مدد میں پس و پیش کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے سیاسی جمہوری قیادت انتخابی اصلاحات اور متناسب نمائندگی کے طرز انتخاب پر اتفاق کرلیں۔عام غریب آدمی بڑی کسمپرسی کا شکار ہے۔ سیاسی جلسوں میں کروڑوں، اربوں روپے جھونکے جارہے ہیں لیکن سیاسی بحرانوں اور الجھاؤ کی ڈور کا سرا تلاش نہیں کیا جارہا۔ تمام سیاسی سرگرمیاں اور جدوجہدلاحاصل بن رہی ہیں۔ بحرانوں کا خاتمہ اور پاکستان کا استحکام ہی احتجاجی سیاست کا حاصل ہونا چاہیے۔ عمران خان اپنی مقبولیت کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔

مزید :

رپورٹر پاکستان -علاقائی -پنجاب -لاہور -