وہ گاڑی جس کی پاکستان میں قیمت 2 کروڑ روپے کم ہو گئی 

وہ گاڑی جس کی پاکستان میں قیمت 2 کروڑ روپے کم ہو گئی 
وہ گاڑی جس کی پاکستان میں قیمت 2 کروڑ روپے کم ہو گئی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایف بی آر کی جانب سے لاگو کردہSRO1571(I)/2022 کی معیاد 21 نومبر2022 کو ختم ہونے کے بعد الیکٹرک گاڑیوں پر عائد کی گئی 100 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹا دی گئی ہے جس کے باعث پاکستان میں مشہور زمانہ گاڑی ” اوڈی ای ٹرون “( Audi E-tron) کی قیمت میں تقریباً 2 کروڑ روپے تک کی حیران کن کمی دیکھنے میں آئی ہے ،کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹنے کے بعد اوڈی ای ٹرون 50 کی قیمت میں ایک کروڑ 1 لاکھ 50 ہزار روپے کمی ہوئی  جس کے بعد اس کی قیمت تین کروڑ 24 لاکھ 50 ہزار سے کم ہو کر 2 کروڑ 23 لاکھ روپے ہو گئی ہے ۔

اوڈی ای ٹرون کے ویرینٹ ” ایس بی “ کی قیمت میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 کروڑ 61 لاکھ 50 ہزار سے کم ہو کر 2 کروڑ 48 لاکھ 50 ہزار روپے پر آ گئی ہے ۔

ای ٹرون جی ٹی کی قیمت میں بھی بھاری کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی نئی قیمت ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے بعد 3 کروڑ 45 لاکھ روپے ہو گئی ہے جبکہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد اس کی قیمت 4 کروڑ 83 لاکھ 25 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی جس میں اب 1 کروڑ 38 لاکھ 25 ہزار روپے کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔

ای ٹرون کے ٹاپ آف دی لائن ویرینٹ ” آر ایس ای ٹرون جی ٹی “ (RS e-tron GT)کی قیمت میں ایک کروڑ 95 لاکھ روپے کمی ہونے کے بعد 4 کروڑ 85 لاکھ روپے میں فروخت کیلئے پیش کی جارہی ہے ۔جبکہ اس کی پرانی قیمت 6 کروڑ 80 لاکھ روپے تک پہنچ گئی تھی ۔

اوڈی پاکستان کی جانب سے نئی قیمتوں کے اعلان کے ساتھ ہدایت بھی جاری کی گئی ہیں جس میں بتایا گیاہے کہ یہ ایکس شوروم بکنگ کی قیمتیں ہیں جن کا اطلاق نئی بکنگز پر ہو گا جبکہ شوروم میں موجود گاڑیوں کو پرانی قیمتوں پر ہی فروخت کیا جائے گا تاہم کمپنی اس پر کچھ ڈسکاﺅنٹ دینے کیلئے بھی تیار ہے ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے ریگولیٹری ڈیوٹی صفر سے 100 کر دی گئی تھی جس کا اطلاق 22 اگست 2022 سے ہوا اور اس کی معیاد 21 نومبر 2022 تک تھی اور ایسا محسوس ہو تاہے کہ حکومت کا ایس آر او کو مزید توسیع دینے کا کوئی پلان نہیں ہے ۔جس کے پیش نظر گاڑیوں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔

مزید :

بزنس -