ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں، چیف جسٹس پاکستان 

ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں، ...
ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں، چیف جسٹس پاکستان 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لاکر استعمال نہیں ہو سکتا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ پروجیکٹ میں مسلسل پانی کے استعمال سے بلوچستان میں خشک سالی ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں غیرملکی کمپنی بلوچستان کے پانی کا ری سائیکلنگ پلانٹ لگائے ؟چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ریکوڈک کان میں کام کرنے والے مزدورں کے تحفظ اور مراعات کیا طے ہوئیں؟۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دنیا بھر میں کان کنی کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں،سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -