بھگت سنگھ کی خاندان سے آخری ملاقات

بھگت سنگھ کی خاندان سے آخری ملاقات
بھگت سنگھ کی خاندان سے آخری ملاقات

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:118

 ملزموں کی حمایت میں مسلسل اضافے اور روز بروز بڑھتے ہوئے عوامی دباﺅ کے پیش نظرگورنمنٹ اس مقد مے کو جلد از جلد نپٹانے کی خواہشمند تھی۔۔۔بھوک ہڑتالیوں کی حالت نازک ہوتی جارہی تھی۔ دت کا بخار اتنا تیز ہو گیا کہ اسے عدالت میں لانا ممکن نہ رہا۔قانون کے مطابق ملزم کی غیر حاضری میں اس کے وکیل کی موجود گی ضروری تھی۔دت نے اعلان کیا کہ اگر اس کا وکیل اس کی غیر حاضری میں پیش ہوا تو اس کا وکالت نامہ منسوخ تصور کیا جائے گا۔حکومت جب ہائی کورٹ میں ملزموں کی عدم موجودگی میں عدالتی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت لینے گئی تو عدالت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔آخر میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ اسمبلی کے اندر قانون کی تبدیلی کا بل پیش کیا جائے۔ یہاں بھی محمد علی جناح، موتی لال نہرو اور کئی دیگرارکان نے اس کی بھرپور مخالفت کی جس کی وجہ سے بل پاس نہ ہوسکا اور حکومت کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑا۔ 

بالآخر حکومت نے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو سزا دینے کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا جس کی نظیر برطانیہ کی سیکڑوں سال پرانی عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی۔گورنر جنرل لارڈ ارون نے یکم مئی 1930 کو ایک خصوسی آرڈیننس جاری کیا۔اس آرڈیننس میں ہائی کورٹ کے 3 ججوں پر مشتمل ایک سپیشل ٹریبیونل مقرر کیا گیا۔سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جاری کارروائی کو روک دیا گیا۔یہ کارروائی سنجیدہ نوعیت کے مقدمات میں ملزم کو انصاف مہیا کرنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔اس کے بعد کیس سیشن جج کے پاس جاتا ہے۔ اور اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ میں۔ سازش کیس کے ملزموں کے لیے نہ صرف سیشن کورٹ میں پیشی کی پابندی کو ختم کر دیا گیا بلکہ انہیں ہائی کورٹ میں اپیل کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ملزم یا پھر اس کے وکیل کی عدالت میں حاضری کا ضابطہ جو صدیوں سے برطانوی قانون شہادت کا بنیادی اصول چلا آرہا تھا اور اسے انصاف کا بنیادی تقاضا تصور کیا جاتا تھا اس کیس میں ختم کر دیا گیا۔ٹریبونل کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ ملزم یا اس کے وکیل کی غیر حاضری میں بھی کاروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔چونکہ قانون کے مطابق6 ماہ کے بعد اس آرڈیننس کی اسمبلی سے توثیق کرانا ضروری تھا اور اسمبلی اس پر انگوٹھا لگانے کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے سپیشل ٹریبو نل کو6 ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند کر دیا گیا۔

یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت انصاف کے تقا ضوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہر قیمت پر اپنا من پسند فیصلہ حاصل کرنے کی خوہشمند تھی۔ سپیشل ٹریبونل دکھاوے کی عدالت تھی۔جب ایک موقع پر یہ خدشہ پیدا ہوا کہ عدالت کے ایک رکن جسٹس آغا حیدر کہیں پہلے سے طے شدہ فیصلے کی مخالفت نہ کر دیں تو اسے توڑ کر ایک نیا ٹریبونل تشکیل دے د یا گیا جس میں متذکرہ جج کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ 

7۔اکتوبر 1930 ءکو بالآخر ٹریبو نل نے وہی فیصلہ سنایا جس کی حکومت خواہشمند تھی۔بھگت سنگھ، سکھدیو اور راج گورو کے لیے کو سزائے موت کا اعلان ہوا۔ 7 ملزموں کو کالے پانی کی سزا۔ایک کو 7 سال اور ایک اور کو 5سال قید مشقت کی سزا دی گئی۔3 مارچ 1931ءکو بھگت سنگھ کی اہل خاندان سے آخری ملاقات کرائی گئی۔23 مارچ کو شام سوا سات بجے تینوں کو لاہور جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ان کی کال کوٹھریوں سے ”انقلاب زندہ باد “کے بار بار بلند ہونے والے نعروں سے جیل کے باسیوں نے اندازہ لگا یا کہ اس وقت انہیں پھانسی گھاٹ لے جایا جارہا ہے۔ان کی لاشیں اہل خاندان کے سپرد کرنے کی بجائے خاموشی سے دریائے ستلج کے کنارے پر پہنچا دی گئیں جہاں انہیں سپرد آتش کرکے ان کی راکھ دریا میں بہا دی گئی۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -