سہمی ہوئی عورتیں اس کی منتظر تھیں، سورج ڈھل رہا تھا اور سردی بڑھ رہی تھی

سہمی ہوئی عورتیں اس کی منتظر تھیں، سورج ڈھل رہا تھا اور سردی بڑھ رہی تھی
سہمی ہوئی عورتیں اس کی منتظر تھیں، سورج ڈھل رہا تھا اور سردی بڑھ رہی تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:90

میڈم ہاپٹ ڈوئی ہاتھ میں لیے یورگس سے مخاطب تھی لیکن اس کے الفاظ اس کی برداشت سے باہر تھے۔ وہ مایوسی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے لپکا۔۔۔ لیکن اسے عقب سے عورت کی آواز دوبارہ سنائی دی۔

” صرف تمھارے لیے میں5 ڈالر لے لوں گی۔“

وہ تکرار کرتی ہوئی خود ہی اس کے پیچھے چل پڑی۔ ” اتنی اچھی پیش کش قبول نہ کرنا بے وقوفی ہی ہے۔ اس برستی بارش میں اس سے کم میں کوئی تمھارے ساتھ نہیں جائے گا۔ میں نے ساری زندگی اتنا سستا کیس ایک بھی نہیں کیا۔ میں نے بھی کمرے کا کرایہ دینا ہے۔۔۔ “ 

یورگس نے غصے سے اس کی بات کاٹی۔ ” جب میرے پاس ہیں ہی نہیں تو میں کہاں سے دوں ؟ میرے پاس ہوتے تو میں تمھیں دے نا دیتا ؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ سنا تم نے ؟ ان کے علاوہ پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے !“

وہ مڑا اور دوبارہ چلنے لگا۔اس نے ابھی آدھی سیڑھیاں ہی طے کی تھیں کہ میڈم ہاپٹ نے چلّا کر پیچھے سے کہا۔ ” اچھا ٹھہرو ! میں چلتی ہوں تمھارے ساتھ۔ “

 وہ دوبارہ اس کے کمرے میں آگیا۔ 

” کسی کی تکلیف کا سن کر رہا بھی تو نہیں جاتا۔“ اس نے افسردگی سے کہا۔ ” جو کچھ تم مجھے دے رہے ہو اس سے تو بہتر ہے میں مفت ہی کیس کردوں۔ اچھا کوشش کرتی ہوں تمھاری مدد کرنے کی۔ کتنی دور جانا ہے ؟ “

”یہاں سے تین چار بلاک دور۔ “ 

” تین چار ! میں تو بھیگ جاؤں گی ساری۔ سوا ڈالر تو بہت کم ہے۔۔۔ لیکن یاد رکھنا تم نے مجھے باقی25 ڈالر دینے ہیں بعد میں۔“ 

” جتنی جلدی دے سکا دے دوں گا۔“ 

” اسی مہینے میں نا ؟ “ 

” ہاں ایک مہینے کے اندر اندر۔ “ یورگس نے وعدہ کیا۔ ” لیکن جلدی کرو ! “

”چلو وہ سوا ڈالر تو نکالو! “ میڈم ہاپٹ نے بے لحاظی سے کہا۔ 

 یورگس نے پیسے نکال کر میز پر رکھ دیے۔ میڈم نے گن کر انہیں سنبھالا، اپنے چکنے ہاتھ پونچھے اور جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ وہ مسلسل شکایتی انداز میں بڑبڑا رہی تھی۔ وہ اتنی موٹی تھی کہ ہلنا جلنا اس کے لیے تکلیف دہ تھا۔ وہ ہر قدم پر ہانپتی اور کراہتی تھی۔ اس نے یورگس کی موجودگی کی پروا ہ کیے بغیر اپنا قمیض اتار کر دوسرے کپڑے پہنے، پھر اپنا سیاہ بونیٹ اچھی طرح سر پر جمایا، چھتری ڈھونڈی، ایک بیگ اٹھایا جس میں ضرورت کی چیزیں ادھر اُدھر سے ڈھونڈ کر بھرنا شروع کیں۔ یورگس پریشانی سے دماغی توازن کھونے کو تھا۔ باہر سڑک پر وہ اس سے تین چار قدم آگے چل رہا تھا اور بار بار پلٹ کر دیکھتا تھا۔ شاید اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اسے تیز چلا لے گا۔ لیکن میڈم ہاپٹ کے لیے ایک وقت میں ایک قدم اٹھانے سے زیادہ کی گنجائش ہی نہیں تھی۔

آخر وہ گھر پہنچ گئے جہاں سہمی ہوئی عورتیں اس کی منتظر تھیں۔ ابھی تک کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔ اسے اونا کی چیخیں اب بھی سنائی دے رہی تھیں۔ میڈم ہاپٹ نے اپنا بونیٹ اتار کر مینٹل پیس پر رکھا۔ پھر بیگ سے ایک پرانا کپڑا نکالا، چکنائی نکال کر اچھی طرح ہاتھوں پر ملی۔ دائیاں برکت کے لیے چکنائی کے طور پربطخ کی چربی استعمال کرتی تھیں۔ میڈم ہاپٹ بھی یہ چربی گندے کپڑوں میں سنبھال کر رکھتی تھی۔ کبھی کبھار اس کے استعمال کی نوبت مہینوں تک بلکہ پورا پورا سال نہیں آتی تھی۔

اسے اوپر جانے کا راستہ دکھایا گیا تو سیڑھیاں دیکھ کر اس کے مایوسی بھری آہ نکلی۔ ” ایسی جگہ مجھے بلانے کی کیا ضرورت تھی ؟ مجھ سے یہ سیڑھیاں نہیں چڑھی جائیں گی۔ نہ مجھ سے اُس تنگ دروازے سے اندر جایا جائے گا۔ یہ کوئی بچہ جننے کی جگہ ہے ! اوپر کی منزل پر اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر جاؤ، چاہے کسی کی اپنی جان چلی جائے اوپر چڑھنے میں۔ کوئی شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو۔ “ یورگس خاموشی سے کھڑا اس کی پھٹکار سنتا رہا۔ 

آنئیل نے بڑی مشکل سے اسے ٹھنڈا کیا اور جیسے تیسے اسے اوپر لے گئی۔ اوپر کوئی باقاعدہ فرش تو تھا نہیں۔ چند پھٹے رکھ کر فرش بنایا گیا تھا۔ وہاں اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ موم بتی کے بغیر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ جوں ہی وہ اوپر پہنچی آنئیل نے آکر یورگس سے کہا۔ 

” اب تم یہاں سے جاؤ۔۔۔ جیسا میں کہتی ہوں ویسا ہی کرو، جو تم کر سکتے تھے تم نے کر لیا۔ اب تم تنگ نہ کرو۔ باہر جاؤ اور وہیں ٹھہرو!“

” لیکن میں کہاں جاؤں ؟ “ یورگس نے بے چارگی سے کہا۔ 

” پتا نہیں کہاں۔۔۔ “ اس نے جواب دیا۔ ” اگر کوئی اور جگہ نہیں توباہر سڑک پر چلے جاؤ۔۔۔ لیکن چلے جاؤ اور رات باہر ہی رہنا ! “

اس نے اور ماریا نے اسے گھر سے باہر دھکیل کر دروازہ بند کر لیا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور سردی بڑھ رہی تھی۔ بارش برف میں بدلنے لگی تھی اور کیچڑ جمنا شروع ہو گیا تھا۔ یورگس نے باریک کپڑوں میں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور جدھر مونھ اٹھا ادھر چل دیا۔ صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور اب وہ خود کو بیمار اور کمزور محسوس کر رہا تھا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ وہ سیلون جہاں وہ کبھی کھانا کھانے جایا کرتا تھا چند بلاک ہی دور تھا۔ ہوسکتا ہے وہ اس پر رحم کھالیں یا وہاں کوئی دوست مل جائے۔وہ تیز تیز اس طرف چلنے لگا۔ 

” ہیلو جیک ! “ اس کے داخل ہوتے ہی سیلون کیپر نے کہا۔ پیکنگ ٹاؤن میں ہر غیر ملکی اور ناتجربہ کار کو ”جیک“ کَہہ کر پکارا جاتا تھا۔ ” کہاں رہے اتنے دن ؟ “

یورگس سیدھا بار کی طرف بڑھا۔ ” میں جیل میں تھا۔ “ اس نے بتایا ” اور ابھی ابھی باہر آیا ہوں۔ گھر تک پیدل چل کر آیا ہوںاور میری جیب میں ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں ہے۔ صبح سے میں نے کچھ نہیں کھایا۔ میرا گھر بھی چھن چکا ہے، میری بیوی بیمار ہے۔ میں برباد ہو چکا ہوں۔“

سیلون کیپر نے اس کے پریشان چہرے اور سردی سے کانپتے نیلے ہونٹوں کو دیکھا اور پھر ایک بڑی بوتل اس کی طرف بڑھا دی۔” جی بھر کے پیو !“ اس نے کہا۔

یورگس کے ہاتھ اس طرح کانپ رہے تھے کہ اس سے بوتل پکڑنا محال تھا۔ 

” گھبراؤ مت۔ “ سیلون کیپر نے دوبارہ کہا ” مونھ لگا کر پی جاؤ ! “

یورگس نے وہسکی کا بڑا گلاس خالی کیا اور کیپر کے کہنے پر لنچ کے کاؤنٹر سے پیٹ بھر کر کھانا بھی کھایا۔پھر شکریہ ادا کرنے کے بعد کمرے کے وسط میں جلتی انگیٹھی کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -