مغربی فلسفے کی تاریخ میں والٹیروہ واحد دانشور ہے، جو شاید خود کو فلسفی کہلوانا بھی پسند نہ کرے

مغربی فلسفے کی تاریخ میں والٹیروہ واحد دانشور ہے، جو شاید خود کو فلسفی ...
مغربی فلسفے کی تاریخ میں والٹیروہ واحد دانشور ہے، جو شاید خود کو فلسفی کہلوانا بھی پسند نہ کرے

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:47

فرنے کے قیام کے دوران اس نے جو علمی منصوبے شروع کئے ، ان میں سے ایک اہم کام ”فلسفیانہ لغت“کی تالیف ہے۔ اس کتاب کو اپنے عنوان کے حساب سے فلسفیانہ لغت کہنا تو درست نہ ہوگا۔ دراصل یہ مختلف علوم و فنون کی لغت ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ مختلف موضوعات پر اس کے اپنے خیالات یا مختصر مضامین کا مجموعہ ہے، جس کو پیش کرتے ہوئے ابجد کی ترتیب کو مدِنظر رکھا گیا ہے، مگر کہیں کہیں اس شرط سے بھی انحراف کیا گیا ہے۔ خیر، اس نے اس کتاب میں لسانیات، شاعری، موسیقی، ڈرامہ ، سائنس ، تاریخ ، فلسفہ اور مذہب پر اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ 1764ءمیں جب یہ کتاب پہلی بار شائع ہوئی تو یہ ”جیبی ڈکشنری“ کے نام سے جیبی کتاب کی صورت میں ہی تھی۔ اگلے سال اس میں اضافے کئے گئے اور اس کا نام بدل کر ”فلسفیانہ لغت“ رکھا گیا۔ اب اس کی اشاعت کے بعد 2 اور کتابیں’ ’انسائیکلو پیڈیا سے متعلق سوالات“ اور ابجدی آراء“ کے نام سے شائع ہوئیں۔ اس کی وفات کے بعد ان دونوں کتابوں کو بھی ”فلسفیانہ لغت“ میں شامل کر لیا گیا۔اس کے مسودات سے ملنے والی کچھ مزید تحریروں کو بھی اس میں شامل کیا گیا اور یوں یہ ”فلسفیانہ لغت“ پھیل کر 3جلدوں کی صورت اختیار کر گئی۔

والٹیر ویسے بھی یورپ کے دیگر فلسفیوں سے مختلف ہے۔ اس کتاب میں بھی اس نے جہاں کہیں ”فلسفہ“ کی اصطلاع استعمال کی ہے، تو اس سے وہ ”روشن خیالی“ اور ”عقل پرستی“مراد لیتا ہے۔ وہ اس کتاب میں الحاد، رواداری، آزادی تقریر و تحریر، انسانی فہم کی حدود ، روح کی ماہیت، محبت ، جنت کی حقیقت، حضرت ابراہیمؑ، حضرت سلیمانؑ، بت پرستی، بادشاہت اور الٰہیات جیسے موضوعات پر گفتگو کرتا ہے۔ مگر اس کا اصل مقصد سچائی کا تعین ہے۔ مثلاً وہ بائبل میں بیان کردہ کوئی واقعہ سنا کر سوال کرتا ہے کہ یہ مافوق الفطرت واقعہ واقعتاً وقوع پذیر ہوا بھی تھا یا نہیں۔ ظاہر ہے، یہ ایک ایسی صورتحال تھی، جس کا دفاع ارباب کلیسا کے بس کی بات نہیں تھی اور عقیدہ بچانے کی صورت تھی اور وہ یہ کہ کسی واقعے کے لغوی مفہوم پر اصرار کی بجائے اس کی علامتی مفہوم میں پناہ لی جائے۔۔۔نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے طے شدہ خیالات اور عقائد کو مسترد کرکے سوال کرنا شروع کر دئیے اور اس سے ان فکری رجحانات کو فروغ ملا، جو 1789ءکے انقلابِ فرانس کا پیش خیمہ بنے۔ 

مغربی فلسفے کی تاریخ میں والٹیروہ واحد دانشور ہے، جو شاید خود کو فلسفی کہلوانا بھی پسند نہ کرے۔ اس نے فلسفیانہ سوالات اٹھائے ضرور ہیں، مگر ان کا جواب کبھی تجریدی اور فلسفیانہ زبان میں نہیں دیا۔ وہ مروجہ فلسفیانہ تشریحات کا منکر تھا اور پیشہ وارانہ تدریسی فلسفے کا قطعی مخالف۔ وہ فلسفیانہ اصطلاحوں سے گریز کرتا ہے۔ 60 سالہ تصنیف و تالیف کی زندگی میں اس کو فلسفیانہ نظام ایک آنکھ نہیں بھائے۔ اس نے ایک جگہ لکھا:”منظم قسم کے فلسفیانہ نظام میری عقل کو ٹھیس پہنچاتے اور اس کی توہین کرتے ہیں“۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس نے کبھی کوئی ایسا جملہ نہیںلکھا ، جو آسانی سے سمجھ نہ آئے۔ اس کے برعکس پیشہ ور فلسفی ایسی تحریر ہی کو عامیانہ خیال کرتے ہیں، جو سادگی سے اپنے مطالب عیاںکر دے۔ وہ تو الفاظ کے گورکھ دھندوں سے ہی کھیلتے ہیں۔ ہیگل کو یاد کیجئے۔ اس کا کہنا تھا: ”میرا فلسفہ صرف میرا ایک شاگرد روزن کرانز سمجھا ہے، اور وہ بھی غلط سمجھا ہے“۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -