جنرل یحییٰ اس انتظار میں تھے کہ چین یا امریکہ کی طرف سے امداد مل جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا

 جنرل یحییٰ اس انتظار میں تھے کہ چین یا امریکہ کی طرف سے امداد مل جائے گی لیکن ...
 جنرل یحییٰ اس انتظار میں تھے کہ چین یا امریکہ کی طرف سے امداد مل جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:64

سالک نے جنگ کے آخری دنوں میں جنرل نیازی اور گورنر عبدالمالک کی طرف سے جنرل یحییٰ کو لکھے جانے والے خطوط کا متن بھی درج کیا ہے ۔جس کے مطابق جنرل یحییٰ نے ان حالات میں فیصلے کی ذمے داری گورنر مالک اور جنرل نیازی پرڈال دی تھی گورنر مالک نے بدترین حالات کے پیش نظر مشرقی پاکستان میں1970ءکے انتخاب کے نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے ‘ بھارتی اور پاکستانی افواج کی واپسی کی تجویز دی۔ یہ مراسلہ انہوں نے صدر کے نام لکھا اور اقوام متحدہ کے نمائندے کو بھی اس کی نقل دی۔ اس تجویز کو حکومت پاکستان نے ناپسند کیا اس کی وجہ سالک یہ بتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اس وقت اقوام متحدہ میں عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے اور جنرل یحییٰ اس انتظار میں تھے کہ چین یا امریکہ کی طرف سے امداد مل جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ 14 دسمبر کو ڈھاکہ میں گورنر ہاﺅس پر بھارتی طیاروں کی بمباری ہوئی جس کے بعد گورنر مالک نے استعفیٰ لکھا اور اپنی کابینہ اور اعلیٰ سرکار ی ملازمین سمیت ہوٹل انٹرکانٹیننٹل منتقل ہوگئے جسے ریڈکراس نے ”غیر جانبدارعلاقہ بنا رکھا تھا“۔

اس کے بعد جنرل یحییٰ نے جنرل نیازی کو خط میں لکھا کہ مزاحمت سود مند نہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ سے بھارت کو جنگ بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس خط کے بعد جنرل نیازی نے امریکی قونصل جنرل سے بھارت کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات کرنے کو کہا جس سے اس نے انکار کیا اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف پیغام دے سکتا ہے۔ اس کے بعد جنرل نیازی نے بھارتی چیف آف سٹاف مانک شاہ کے نام پیغام میں بعض تحفظات کے ساتھ جنگ بندی کی پیش کش کی۔ مانک شاہ نے یہ پیش کش اس شرط پر قبول کر لی کہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈال دے۔ جنرل نیازی نے تمام ماتحت افسروں کو جنگ بندی کی ہدایات جاری کر دیں۔16 دسمبر کو صبح 9بجے بھارتی فوج کے میجر جنرل ناگرا میرپور پل تک پہنچ گئے اور جنرل نیازی کے نام رقعہ بھیجا کہ ”میَں میر پور پل پر ہوں اپنا نمائندہ بھیج دو“- یہ رقعہ دیکھ کر میجر جنرل فرمان راﺅ‘ ریئرایڈمرل شریف نے جنرل نیازی سے فوج کی نفری کی بابت پوچھا اور نفی میں جواب سن کر میجر جنرل ناگرا سے ملنے کو کہا چنانچہ میجر جنرل جمشید نے میر پور پل پر ناگرا سے ملاقات کی اور یوں بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہو گئی۔ اسی سہ پہر کو بھارتی ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف میجر جنرل جگجیت سنگھ سقوط کی دستاویز لائے جس میں ”ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کمان“ کے الفاظ پر جنرل فرمان نے اعتراض کیا لیکن جنرل جگجیت سنگھ نے کہا کہ وہ اس میں تبدیلی کے مجاز نہیں۔اس کے بعد بھارتی لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا اور جنرل نیازی نے رمناریس گراﺅنڈ میں سرعام سقوط کی دستاویز پر دستخط کیے اور ہتھیار ڈالوانے کی رسم ہوئی جنرل نیازی نے اپنا ریوالور اروڑا کے حوالے کیا۔ڈھاکہ سے باہر کے مقامات پر 16سے 20 دسمبر کے درمیان ہتھیار ڈالے گئے اور پاکستانی قیدیوں کی بھارت منتقلی کا سلسلہ شروع ہوا آخر میں سالک نے کلکتہ میں جنرل نیازی سے کیا گیا انٹرویو تحریر کیاہے جس میں ان سے شکست کی وجہ پوچھی گئی اور جنرل نیازی اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

جنرل نیازی سے شدید اختلاف کے باوجود سالک کی ان کے بارے میں رائے تہذیب کے دائرے میں ہی رہتی ہے۔ یہ سالک کی شخصیت کا وصف ہے جو اسلوب میں بھی در آیا ہے مثلاً اس وقت عوام جنرل نیازی سے جتنی نفرت کرتے تھے سالک نے اس کی جھلک نہیں دکھائی۔ سعید الدین اپنی کتاب ”مشرقی پاکستان کا زوال“ میں لکھتے ہیں:

”کارروائی کا آغاز ہوا جنرل نیازی نے نہایت اطمینان سے جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کیے اپنے شانے پر سے اسٹار نوچے‘ اپنا ریوالور اور پیٹی اُتار کر اپنی کار کی طرف پھینکے اتنے میں کوئی شخص ہجوم کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے زور سے جنرل نیازی کے سر پر جوتا دے مارا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -