352سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی،جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں،جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سائفر کیس میں ریمارکس

352سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی،جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے ...
352سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی،جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں،جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سائفر کیس میں ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ٹینشن نہ لیں، عدالت مناسب فیصلہ کرے گی،میں نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود کو عدالت میں پیش کرنے کا آرڈر دیا تھا،سکیورٹی ہے یا نہیں، اس کو تو میں دیکھتا ہوں،352سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی،جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سائفر میں شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے کہاکہ اس وقت تو کوئی نقول فراہم یا فردجرم عائد نہیں ہوئی،شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں سلاخوں کے پیچھے موجود ہیں،شاہ محمود قریشی سے متعلق تو کوئی سکیورٹی خدشہ نہیں، کیوں پیش نہیں کیا؟شاہ محمود، چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کروانا عدالت کی ذمے داری ہے۔

جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے کہاکہ ٹینشن نہ لیں، عدالت مناسب فیصلہ کرے گی،میں نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود کو عدالت میں پیش کرنے کا آرڈر دیا تھا،سکیورٹی ہے یا نہیں، اس کو تو میں دیکھتا ہوں،352سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی،جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں،کوئی بھی دوران سماعت آنا چاہتا ہے مجھے کوئی غرض نہیں،مجھے سائفر کیس میں اوپن ٹرائل سے غرض ہے۔ 

جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہاکہ غیرقانونی نوٹیفکیشن پر جیل ٹرائل ہوا، عدالت کے فیصلے کے مطابق نہیں ہواسائفر کیس کی سماعت ہے بے شک کمرہ عدالت سے باہر لگا لیں،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہاکہ عدالت کا فیصلہ میں نہیں مانتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہاکہ میں جوڈیشل آرڈر پاس کروں گا،آئسو لیشن میں نہیں جانے دیا جائے گا۔