بطور عدلیہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں،جسٹس اطہر من اللہ 

بطور عدلیہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں،جسٹس اطہر من اللہ 
بطور عدلیہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں،جسٹس اطہر من اللہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں  پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں اپیلوں کے معاملے پر سماعت  کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جب غاصب طاقتور ہوتا ہے تو کچھ نہیں کہتے،جب غاصب کمزور ہو جائے تو پھر ہم عاصمہ جیلانی کیس میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں،بطور عدلیہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں  پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں اپیلوں کے معاملے پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 4رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جب غاصب طاقتور ہوتا ہے تو کچھ نہیں کہتے،جب غاصب کمزور ہو جائے تو پھر ہم عاصمہ جیلانی کیس میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں،بطور عدلیہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں،3نومبر 2007کو عدلیہ پر حملہ ہوا تو عدلیہ نے ایکشن لینے کاکہا،12اکتوبر 99کو آئین پامال کر دیا، پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا ، لیکن اس پر کوئی ایکشن نہ ہوا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمیں اپنی نسلوں کو غلط اور صحیح کا بتانا چاہئے،ہمیں غلطیوں کا ادراک کرنا چاہئے، کچھ نہیں کر سکتے تو معافی تو مانگ سکتے ہیں،عدالت نے سنگین غداری کیس میں اپیلوں کی مزید سماعت 10جنوری 2024 تک ملتوی کردی۔