وزارت توانائی کی کے الیکٹرک کے لائسنس کی تجدید کی حمایت،نیپرا کو خط لکھ دیا

وزارت توانائی کی کے الیکٹرک کے لائسنس کی تجدید کی حمایت،نیپرا کو خط لکھ دیا
وزارت توانائی کی کے الیکٹرک کے لائسنس کی تجدید کی حمایت،نیپرا کو خط لکھ دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزارتِ توانائی کی طرف سے بھی کے الیکٹرک کے ڈسٹریبیوشن لائسنس کی تجدید کے حمایت کا خط نیپرا کو بھیجا گیا۔

تفصیلات کے مطابق خط 7 جون 2023 کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیپرا افتخار علی خان کے نام بھیجاگیا ،جس میں وزارتِ توانائی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کے الیکٹرک کے بجلی تقسیم کے لائسنس کی تجدید کی تائید کی جاتی ہے۔ یہ خط نیپرا کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور اسکے ساتھ دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مراسلے بھی موجود ہیں۔

کے الیکٹرک کو بجلی تقسیم کار کمپنی کی حیثیت سے لائسنس 2003 میں جاری کیا گیا تھا جسکی مدت 20 سال کی تھی۔ جولائی 2023 میں لائسنس کا دورانیہ ختم ہونا تھا۔ اس سے پہلے ہی کے الیکٹرک نے بجلی تقسیم کی سروس کو جاری رکھنے کے لیے لائسنس کی تجدید کی درخواست نیپرا میں دائر کردی تھی۔ اسی دوران پاکستان بھر کی باقی بجلی تقسیم کار کمپنیز کے لائسنس بھی ختم ہوئے۔ نیپرا نے ملک بھر میں مسابقتی نظام متعارف کرنے کی پالیسی کے تحت لائسنس کی تجدید میں ایکلوسیوٹی ختم کردی۔ اسکا مطلب یہ ہوا کے ملک بھر میں بجلی تقسیم میں مزید شراکت دار ادارے آسکتے ہیں۔ کے الیکٹرک نے بھی اپنے لائسنس کی تجدید کی درخواست میں خصوصی حقوق نہیں مانگے۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ کراچی میں مسابقتی اداروں کی آمد سے اعتراض نہیں، مل کر کراچی کے بجلی صارفین کو بہترین سروس دینے کے لیے کام کرینگے۔ 

نیپرا نے قواعد و ضوابط کے مطابق عوامی سماعت مقرر کرنے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے کے الیکٹرک کی درخواست پر رائے مانگی تھی۔ اس کے جواب میں مختلف صنعتی تنظیم اور صنعتکار سمیت حکومت پاکستان وزارت توانائی نے بھی کے الیکٹرک کی درخواست کی تائید کی۔

کے الیکٹرک کی اعلیٰ قیادت نے آج سماعت کے دوران نیپرا حکام کو بتایا نجکاری کے بعد سے آج بجلی نظام میں 544 ارب روپے کے سرمایہ کاری سے کراچی کے بجلی نظام کو مستحکم بنایا گیا ہے۔ مستقبل میں بھی کراچی کی خدمت کے لیے 484 ارب روپے کا سرمایہ کاری کا منصوبہ اس وقت نیپرا کے زیرِ غور ہے۔ کی جائیگی۔ کے الیکٹرک کی کارکردگی پر حاضرین نے اطمینان کا اظہار کیا اور ساتھ ہی تجاویز بھی پیش کی کہ بجلی کی فراہمی میں بہتری کے لیے کیا اقدام ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک پیشکش یہ تھی کہ لوڈ شیڈنگ کو فیڈر لیول سے منتقل کرکے ٹرانسفارمر لیول پر لایا جائے بالخصوص ان علاقوں میں جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ معلوم ہوتی ہو۔