تا لپور حکمرانوں کے دور میں زرخیززمین کو جان بوجھ کر خالی چھوڑا جاتا تھا تاکہ حکمران آسانی سے شکار کھیل سکیں، غریب ہاری  بھوک سے مر جائیں کوئی پرواہ نہ تھی

 تا لپور حکمرانوں کے دور میں زرخیززمین کو جان بوجھ کر خالی چھوڑا جاتا تھا ...
 تا لپور حکمرانوں کے دور میں زرخیززمین کو جان بوجھ کر خالی چھوڑا جاتا تھا تاکہ حکمران آسانی سے شکار کھیل سکیں، غریب ہاری  بھوک سے مر جائیں کوئی پرواہ نہ تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:201
 ”سنوتمھیں دکھ کی ایک اور بات بتاتا ہوں؛“سندھو کہنے لگا؛”تا لپور حکمرانوں کے دور میں میرے قریب کی زرخیززمین کو جان بوجھ کر خالی چھوڑا جاتا تھا تاکہ حکمران آسانی سے یہاں شکار کھیل سکیں اور بے چارہ غریب ہاری بے شک بھوک سے مر جائیں کوئی پرواہ نہ تھی۔ 1843ء میں تالپور انگریز سے شکست کھا گئے۔ باندھی بنا کے انہیں پنشن کا حقدار قرار دے دیا گیا۔ وہ خود تو مٹی میں مل گئے مگر ان کے مزارات بیتے دنوں کی عظمت بیان کرتے اس دھرتی پر سر اٹھائے ہم سب کا منہ چڑھاتے ہیں۔ایک ہاری ہیں، چلتی پھرتی مٹی کی مورتیاں۔ میں گلگت  بلتستان، خیبر پختون خوا، پنجاب اور سندھ کے بڑے حصے میں زمین کی زرخیزی میں کئی گناہ اضافہ کر تا ہوں۔ زرعی خوشحالی کا پاکستان کی معاشیات میں بڑا اہم کردار ہے۔ میں اس خوشحالی کا سب سے اہم مدد گار اور معاون ہوں۔ زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ بھی بے چارے ہاری اور غریب کسان کی قسمت نہیں بدل سکا۔نہ ہی ان پر ظلم کم ہوئے اور نہ ہی انہیں آزادی ملی ہے۔ آج بھی وڈیرہ از م ان غریب ہاریوں کی کمزور گردنوں کو اپنے آہنی پنجوں میں جکڑے ہے“
”کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ سندھیوں کے 2بڑے اور اہم قبیلے ہیں۔ ”سومرو“ اور ”سماں“۔ دونوں کا حسب ایک ہی ہے اور دونوں ہی اس دھرتی کے حکمران رہے ہیں۔ سومرو نے970 ء تا1351ء تک حکومت کی جبکہ سماں حکومت  1351ء تا1521ء تک رہی۔ان کے علاوہ راجپوت قبیلے کی مختلف شاخوں میں ”بھٹو،کمبوہ، داھر، مہر، جونیجو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بلوچ قبائل میں لغاری، مزاری، رند، چانڈیو، کھوسو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ماہی گیر قبیلوں میں میرانی، میر بہار، سانگی، سولنگی، ماچھی، مالہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان قبائل میں بہت سے بلوچستان اور پنجاب سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے ہیں۔ان مہاجر قبائل نے مقامی خاندان کے افراد سے شادیاں کیں اور یوں یہ بھی سندھی ثقافت کا ہی حصہ بن گئے ہیں۔ اپنے آبائی علاقوں سے ان کا ناطہ یا تو ختم ہو گیا ہے یا نہ ہونے کے برابر ہی ہے۔ یہ ملاپ  یقیناًسندھی ثقافت میں نیا اضافہ ہے۔ میرے ڈیلٹا کے ساتھ جاٹ آباد ہیں لیکن ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔”ڈیرل مکلین“ کے مطابق؛
”عرب اور سندھ کا تعلق بھی بہت پرانا ہے در حقیقت یہ حضرت علی ؓکا دور تھا جب حکیم ابن جبیل مکران کے ساحل تک آیا۔“ سندھ کی مسلم ثقافت میں سندھی صوفیوں کی تعلیمات کی جھلک نمایاں ہے۔“
 دوسرے الفاظ نے ان کی تعلیمات نے یہاں کی ثقافت اور رہن سہن پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان صوفیاء میں لال شہباز قلندرؒ، شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ،سچل سرمست ؒ اور جھولے لال شامل ہیں۔ ہندو بھی سندھ میں آباد ہیں اور 2017ء کی مردم شماری کے مطابق یہ سندھ کی آبادی کا تقریباً نو (9)فی صد ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد مٹھی، عمر کوٹ، سکھر، حیدرآباد اور میر پور خاص کے اضلاع میں آباد ہے۔سندھی زبان آریائی زبان کی ہی ایک قسم ہے۔ یہ قدیم تاریخی زبان وقت کے ساتھ ساتھ موجودہ شکل میں ہم تک پہنچی ہے۔ کہتے ہیں علاقائی زبانوں میں قران کریم کا ترجمہ بھی سب سے پہلے اسی زبان ہوا۔ اس میں مختلف زبانوں جیسے ”پالی، عربی، سنسکرت،“ وغیرہ کے الفاظ شامل ہیں۔ ایک خیال کے مطابق سنسکرت زبان کا ماخذ بھی سندھی زبان ہی ہے۔ان دونوں زبانوں کے 70فی صد الفاظ ملتے ہیں۔ یہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ مشہور مورخ”ابو ریحان البرونی“ کے مطابق ”سندھی تین طرز سے لکھی جاتی ہے۔”اردھانگری“،”مہاجانی“ اور”خودابدی“۔(Ardhanagari, Mahajani, Khudabadi)۔گہری شام کی طرح اس کی باتوں میں بھی گھنیری اداسی ہے۔ہم واپس دادو ڈاک بنگلہ پہنچے ہیں۔
 رات دادو میں ہی بسر کرکے صبح سندھو کے ڈیلٹا کے باقی حصہ کی سیر کو جائیں گے۔ دن کی کوکھ ایک نئی شام جنم دے چکی ہے۔ آسمان صاف اور موسم خوشگوار ہے۔ کرموں بابا بولا؛”سائیں! اکثر گرمی کے موسم میں شام بھی گرم ہی ہوتی ہے لیکن یہ سندھو کا کمال ہے کہ اس نے اپنے دوستوں کے لئے شام کو خوشگوار کر دیا ہے۔ دادو گھوم پھر کر واپس ڈاک بنگلے آئے تو رات اتر چکی ہے۔بڑے دنوں بعد آسمان پرطلائی چاند اور نقرئی تارے تازگی کا احساس دلا رہے ہیں،فضاء میں راحت اور ہوا میں بھی تسکین ہے۔بستر پر گرتے ہی دن بھر کی تھکن نے نیند کی وادی میں پہنچا دیا ہے۔ رات کے ابتدائی2پہر گزر چکے ہیں۔ تیسرا جاری ہے کہ میری آنکھ کھلی گئی ہے۔ رات کے اس پہر چرند پرند اور انسان سبھی گہری نیند کی وادی میں اتر چکے ہوتے ہیں۔ سناٹے کو صرف ان جانوروں کی آواز درہم برہم کرتی ہے جو رات کو جاگتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -