فزکس کے نوٹس کا تبادلہ کرتے  ایک میمن لڑکی سے عشق ہو گیا،بات آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنے 4تلنگے بھائیوں کا تذکرہ کر دیا 

فزکس کے نوٹس کا تبادلہ کرتے  ایک میمن لڑکی سے عشق ہو گیا،بات آگے بڑھانے کی ...
فزکس کے نوٹس کا تبادلہ کرتے  ایک میمن لڑکی سے عشق ہو گیا،بات آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنے 4تلنگے بھائیوں کا تذکرہ کر دیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:109
 تب ہی مجھے ایک بار پھر انتہائی فلمی انداز میں عشق کے مختصر مدت کے بخار نے آ لیا۔وہ ایک میمن لڑکی تھی جس سے ایک دفعہ فزکس کے کچھ نوٹس کا تبادلہ ہوا تھا۔بس اسی کو اساس بنا کر بات آگے بڑھانے کی کوشش کی جو کوئی خاص کامیاب نہ ہوئی۔ نا سمجھ دوستوں کے کہنے پر ایک دفعہ میں نے اس کو گھر تک پہنچانے کی کوشش بھی کی، اگلے دن جب اس نے مجھے سمجھانے کے انداز میں اپنے چار تلنگے بھائیوں کا تذکرہ کیا تو اس میں چھپا ہوا پیغام مجھے بآسانی سمجھ آ گیا، حالانکہ اس حقیقت کا سب کو اچھی طرح علم ہے کہ میمن دنیا کے سب سے زیادہ امن پسند لوگ ہوتے ہیں، وہ تو لڑائی کے دوران ایک دوسرے کو گولی بھی منہ سے ”ٹھاہ“ کر کے مارتے ہیں - لیکن وہی پرانی بات کہ مجرم ضمیر انسان کو بزدل بنا دیتا ہے۔ اور یوں ایک انتہائی نوخیز عشق ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا۔
 1965ء کے آغاز میں ایوب خان کے خلاف یکدم ایک زبردست تحریک اُٹھی۔ چونکہ زیادہ تر طالب علم رہنما اسی کالج میں تھے اس لیے اس تحریک کا نقطۂ آغاز اور نقطۂ عروج بھی یہیں تھا۔ کالج بند ہو گئے تھے اور سارا دن سڑکوں پر لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا تھا اور طالب علم کالج کی چھتوں پر مورچے بنائے، اینٹوں، پتھروں پر مشتمل اپنا اسلحہ لیے بیٹھے رہتے تھے اور وہیں سے پولیس پر مسلسل سنگ باری کرتے تھے۔ جواب میں آنسو گیس کے گولے کالج کے اندر آگرتے۔ نام نہاد طالب علم رہنما ہمیں کالج میں داخل نہ ہونے دیتے اور اگر اندر چلے بھی جاتے تو کوئی کلاس نہیں ہونے دیتے تھے۔ہم لوگ راہداریوں میں چکر لگا کر خوش گپیاں کرتے اور کبھی کبھار آنسو گیس پھانک کر آنسو بہاتے ہوئے گھر واپس آ جاتے تھے۔
اس طرح جب 2 مہینے گزر گئے اور پڑھائی کا بہت زیادہ حرج ہونے لگا تو میں نے ایک اخبار میں مراسلہ لکھا کہ کس طرح چند نام نہادطالب علم رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہم غریب طالب علموں کا قیمتی سال ضائع کرنے پر تُلے ہوئے ہیں جب کہ کراچی کے باقی سارے کالج اسی طرح مصروف تدریس تھے۔ اخبار والوں نے نہ صرف آخر میں میرا اصلی نام بلکہ ”طالب علم اسلامیہ سائنس کالج“بھی لکھ دیا۔ 
اگلے روز حسب معمول میں کالج گیا تو کسی نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگ تمہارا پوچھتے ہوئے یہاں آئے تھے۔ اس سے چند روز پہلے ہی اس قسم کے ایک واقعہ میں کچھ غنڈوں نے ایک طالب علم کی ٹھیک ٹھاک پٹائی کی تھی۔ میں بہادر تو ذرا بھی نہیں تھا بزدل سا لڑکا تھا لہٰذا فوراً ہی خوفزدہ ہو گیا اور وہیں سے باہر لوٹنے کی بجائے آرٹس سیکشن کی راہداریوں میں سے چھپتا ہوا کالج کی عمارت کے دوسرے گیٹ سے باہر نکل آیا اور پھر میں نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا، گھر آ کر ابا جان کو سارا قصہ بتایا انھوں نے کہا اگر مسئلہ گھمبیر ہے تو میں پولیس کا سپاہی ساتھ بھجوا دیا کروں گا۔ میں نے انکار کر دیا اور پھر 10دن تک کالج ہی نہیں گیا۔ اس دوران ہنگامے دم توڑ گئے، اور خدا خدا کر کے کالج کھل گئے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اندر قدم رکھا سب معمول کے مطابق ہی تھا۔ پھر کچھ ہی دیر میں اعتماد بحال ہو گیا۔ اور زندگی ایک دفعہ پھر پہلے سے طے شدہ ڈگر پر چل نکلی۔
کالج کی تعلیم کے دوران پاکستان کی فلمی صنعت عروج پر تھی، ہر ہفتے تین چار نئی فلمیں آتی تھیں اورہر فلم ایک ساتھ پندرہ بیس سینماؤں میں لگتی تھی۔ 30 منٹ کے وقفے سے ایک ہی فلم 3مختلف سینماؤں میں چل جاتی تھی کیونکہ فلم کے پرنٹ کم ہونے کی وجہ سے ایک ہی پرنٹ دو تین سینماؤں میں چلتا تھا۔پہلے سینما کے باہر ایک رکشہ تیار کھڑا رہتا تھا، جیسے ہی اس سینما سے فلم کی ایک ریل فارغ ہوتی وہ اسے لے کر بھاگ جاتا اور دوسرے سینما میں انتظار کرتے ہوئے آپریٹر کے حوالے کر دیتا اور وہ فوراً ہی اسے ریوائنڈ کر کے چلا دیتا اس طرح یہ سلسلہ ہر وقت چلتا ہی رہتا تھا۔ بہت ہی مؤثر نظام ترسیل تھالیکن کبھی کبھار کسی وجہ سے جب رکشہ لیٹ ہو جاتا تو اگلے سینماکا آپریٹر یا تو تماشائیوں کو انتظار کرواتا، یا پھر شور شرابے سے بچنے کے لیے گانوں کی کوئی پرانی ریل چلا دیتاتھا۔ اس دوران لوگ احتجاج تو کرتے لیکن انھیں بھی حقیقت حال کا علم ہوتا تھا اس لیے صبر شکر سے بیٹھے انتظار بھی کرتے رہتے تھے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -