سوڈان‘ نیشنل کانگریس کی قیادت منحرف، الگ جماعت بنانے کا اعلان

سوڈان‘ نیشنل کانگریس کی قیادت منحرف، الگ جماعت بنانے کا اعلان

خرطوم(آن لائن)سوڈان کی حکمراں جماعت نیشنل کانگریس کے کئی سرکردہ راہنماو¿ں نے پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ۔ نیشنل کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے والوں میں وہ 31 رہنماشامل ہیں جنہوں نے رواں ماہ ملک میں اصلاحات کے لیے ایک قرارداد پیش کی تھی، جس پر31 منحرف راہنماو¿ں کے دستخط ثبت تھے۔ بعد ازاں یہ قرارداد" یاد داشت 31" کے نام ہی سے مشہور ہوئی تھی۔"قرارداد 31" کے مسودے کی تیاری میں پیش پیش سیاسی راہنما ڈاکٹرغازی صلاح الدین نے بتایا کہ انہوں نے اس قرارداد کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ" فیس بک" پرایک خصوصی صفحہ بھی تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر عمرالبشیر کی ریاستی پالیسیوں اورعوام پر طاقت کے استعمال خلاف ہر فورم پرآواز اٹھائی جائے گی۔ صدر کے حکم پر نہ صرف احتجاج کرنے والے عام شہریوں پر طاقت کا استعمال کیا گیا بلکہ اصلاح پسندی کی حمایت میں آواز اٹھانے والے پرامن رہ نماو¿ں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔

خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غازی صلاح الدین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب ہمارے سامنے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے لیے دروازے کھل گئے ہیں۔ میرے ساتھ اصلاحاتی قرارداد پردستخط کرنے والے اکتیس رہ نماو¿ں نے نئی سیاسی جماعت کے منشور کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں اصلاحالات کے لیے تیار کردہ یہ قرارداد بھی ہماری نئی سیاسی جماعت کے منشورکا حصہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی مرضی اور ان کی توقعات کے مطابق سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں آزادانہ سیاسی پلیٹ فارم سے کام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی داغ بیل ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں اصلاحات کا پرجوش مطالبہ کرنے اور مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے مذمت کی پاداش میں حکمراں جماعت نیشنل کانگریس تین رہ نماو¿ں ڈاکٹرغازی صلاح الدین، حسن رزق اور فضل اللہ احمد کی رکنیت پہلے ہی ختم کر چکی ہے۔ ان کے علاہ اصلاحاتی قرارداد کی حمایت کرنے والے چھ دیگر رہ نماو¿ں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔

مزید : عالمی منظر