ڈی این اے اور اسلامی نظریاتی کونسل

ڈی این اے اور اسلامی نظریاتی کونسل

  

کینڈیس31اکتوبر1992ءکو شنی برجر نامی فزیشن کے پاس علاج کے لئے آئی۔ فزیشن نے اینستھیزیا دینے کے بعد اس کی بے حرمتی کی۔ نیم بے ہوشی کی حالت کے باوجود کینڈیس کے ذہن میں زیادتی کا واقعہ محفوظ رہا۔ کینڈیس نے کپلنگ (کینیڈا) میں پیش آنے والے اس واقعہ کی رپورٹ پولیس کو کی۔ پہلے پہل پولیس نے کینڈیس اور دیگر خواتین کے الزامات کے بارے میں شبہ کا اظہار کیا، کیونکہ فزیشن کے بلڈ سیمپل اور مادہ کے مابین ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے مناسبت ثابت نہ ہو سکی۔ تین بار (1992،1993ءاور1996ءمیں) لیبارٹری ٹیکنیشن نے پولیس کے لئے فزیشن کے بازو سے خون کا نمونہ لیا، لیکن ہر بار خون اس کے بازو کی رگ کی بجائے ٹیوب سے برآمد ہوا۔ فزیشن نے ایک مرد مریض کے خون پر مشتمل پلاسٹک ٹیوب (پن روز ڈرین) امپلانٹ کر رکھی تھی۔1997ءمیں فزیشن کی بیوی نے اپنے سابقہ خاوند کی بیٹی کے حوالے سے فزیشن کے غلط رویے کی رپورٹ کی۔ چوتھی بار اس کے خون، تھوک اور بالوں کے نمونے لئے گئے۔ اس بار جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والا یہ فزیشن دھوکا دینے میں کامیاب نہ ہو سکا اور اسے چھ سال قید سنائی گئی۔

ایک نعش کٹی پھٹی حالت میں ملی۔ جائے قتل و آلہ ¿ قتل پر موجود خون کے نشانات کے ڈی این اے ٹیسٹ سے قاتل کو پہچان کر قانون کی گرفت میں لئے جانے میں بظاہر کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر چالاک گینگ کسی معصوم کو قاتل ثابت کرنا چاہے، تو وہ ڈی این اے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ کسی ایکس، وائی یا زیڈ کے خون کو سنٹری فیوج کر کے اس میںسے وائٹ بلڈ سیلز نکال دیئے جائیں، جو ڈی این اے کے حصول کا سورس(منبع) ہیں۔ دوسری طرف کسی بے گناہ کے بال یا تھوک کا ٹشو لے کر اس میں سے حاصل شدہ ڈی این اے کو جینوم امپلیفیکیشن کے ذریعے بڑا کر لیا جائے۔ بعد ازاں اس امپلیفائڈ نمونے کو فلٹر شدہ خون میں ڈال دیا جائے، تو شکنجہ تیار ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اگر ڈی این اے کے کمپیوٹر ماڈل کو جعلی ڈی این اے بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، بلکہ نیو کلکس نامی ادارے کے مطابق بائیولوجی کا کالج سٹوڈنٹ بھی یہ کارروائی کر سکتا ہے۔

مزید یہ کہ لیبارٹری کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹس کے سبب بھی مادی ترقی کے سرخیل ممالک میں بے گناہ افراد کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خون کا نمونہ دیتے وقت ڈاکٹر شنی برجر جیسی ہوشیاری دکھائی جا سکتی ہے۔ جعلی ڈی این اے کے ذریعے بے گناہ کو پھانسا جا سکتا ہے۔ لیبارٹری کے عملے سے مل کر مرضی کی رپورٹ حا صل کی جا سکتی ہے، جس ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں اس قدر احتمالات موجود ہوں، اس کے بارے میں رائے دینا کہ یہ99.9فیصد درست ہے، یقینا زمینی حقائق سے اعراض ہے، پھر اس بات پر اصرار کرنا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کو معاون شہادت نہیں، بلکہ بنیادی شہادت کے طور پر قبول کیا جائے، شرعی حقائق سے بھی اغماض ہے۔ علاوہ ازیں ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ معاملہ رضا مندی کا ہے یا جبر کا۔ ایسی صورت میں ر ضا مندی کے مجرم کو جبر کی سزا کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے اور رضا مند فیمیل سزا کے خوف یا کسی بھی سبب کے باعث جبر کا الزم مرد پر عائد کر سکتی ہے۔

کیا کونسل آف اسلامک آئیڈلوجی کا ”جرم“ یہی ہے کہ اس نے 18،19 ستمبر2013ءکو منعقدہ اجلاس میں ریپ کیسز کے لئے ڈی این اے کو ثانوی شہادت تسلیم کیا ہے؟ مسلم ورلڈ لیگ(رابطہ عالم اسلامی) مکہ مکرمہ کے ذیلی شعبے ”مجمع فقہی اسلامی“ نے فقہائ، ڈاکٹروں اور سپیشلسٹ (متخصصین) کی تحقیق سے استفادے کے بعد جو موقف 2002ءمیں پیش کیا، وہ رابطہ عالم اسلامی کی ویب سائٹ پر عربی میں دستیاب ہے۔ اس میں سے ایک اقتباس کا ترجمہ درج ذیل ہے:” اول: شرعی طور پر جرائم کی تحقیق میں ڈی این اے ٹیسٹ (البصمہ الوراثیتہ) پر اعتبار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اسے اثبات جرائم کے لئے وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماسوائے حد شرعی اور قصاص کے“۔ سو یہ”جرم“ کرنے والے واجب الاحترام علماءکی تعداد کثیر ہے۔

اگر ڈی این اے ٹیسٹ کو ثانوی شہادت (سکینڈری ایوی ڈنس) کے طور پر قبول کیا جائے تو کیا ملزم کو سزا نہیں ہو سکتی؟ یقینا ہو سکتی ہے۔ شرعی طور پر اس کو تعزیری سزا دی جا سکتی ہے، لیکن حد نافذ نہیں کی جائے گی۔ اگر چار گواہ موجود نہ ہوں، تو کیا زبردستی بے حرمتی کرنے والے وحشی کو سزا نہیں ہو سکتی؟ اسلامی قانون اور پاکستانی قانون دونوں کے مطابق وہ تعزیزی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے، جو قید و مالی جرمانے وغیرہ کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے جید علماءکی ”خطا“ یہ ہے کہ وہ چار گواہوں کی شرط کے ساتھ رجم کی سزا کے قائل ہیں، جبکہ بعض ”اہل دانش“ صرف ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر رجم کی سزا دینا چاہتے ہیں؟ اس صائب رائے پر آئینی ادارے کے قابل احترام اور ذی علم ممبران کی تضحیک قابل افسوس ہے۔ کیا کیجئے! کچھ قلم کار قلم کو لاٹھی کی طرح گھماتے اور تلوار کی طرح چلاتے ہیں اور پکارتے جاتے ہیں.... ” ہٹ کے، بچ کے“۔      ٭

مزید :

کالم -