”انسان واقعی جلد باز ہے“

”انسان واقعی جلد باز ہے“

پروفیسر ڈاکٹر افتخار وارث ایک معروف اور لائق ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں۔وہ دانشور بھی ہیں اور کالم نویس بھی.... مجھے صرف ایک بار ان سے ملنے کا اتفاق ہوا اور مَیں ان کی شخصیت اور اخلاق عالیہ سے بہت متاثر ہوا۔ روزنامہ ”پاکستان“ کے سنڈے میگزین میں ان کا ایک کالم دیکھ کر مَیں بہت پریشان ہوں کہ وطن عزیز کی جو تصویر انہوں نے پیش کی ہے، وہ آخری حد تک مایوس کن ہے اور اس میں روشنی اور امید کی کوئی رمق نظر نہیں آتی۔مایوسی، مایوسی، آخری حد تک مایوسی۔ڈاکٹر صاحب ایک تجربہ کار، ماہر معالج ہیں، مگر یہ انداز تو ایک معالج کا نہیں ہوتا۔ایک ذمہ دار معالج تو کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور آخری وقت تک مریض کو تسلی دیتا اور اسے شفائے کاملہ کی نوید سناتا ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر میں یہ پیغام جھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ اب جینے کا کوئی فائدہ نہیں، اب تو جس قدر جلد ممکن ہو ہمیں خودکشی کرلینی چاہیے۔

 اس حوالے سے بہت سے لوگ ڈاکٹر صاحب کے ہم خیال نظر آتے ہیں۔ٹی وی کے اینکرپرسن اورحالات کا تجزیہ کرنے والے دانشور، مختلف اخبارات کے کالم نویس اور سیاست دان لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بدامنی کے حوالے سے تسلسل اور تواتر کے ساتھ حالات کی انتہائی بھیانک تصویر کشی کررہے ہیں اور موجودہ حکمرانوں کو ناکام ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں.... مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ وطن عزیز کے حالات بہت ہی ابتر ہیں اور اس کا ہر شعبہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ انصاف، اعتدال اور خوفِ خدا سے کام لیں تو ہمارا ضمیر گواہی دے گا کہ اس صورت حال کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد نہیں ہوتی،جسے برسرِ اقتدار آئے ہوئے بمشکل پانچ ماہ ہوئے ہیں، بلکہ اس کا سارا کریڈٹ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری حکومت کو جاتا ہے، جنہوں نے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ملک کے وسائل کو جی بھر کے لوٹا اور ہر شعبے کو آخری حد تک پامال کردیا۔یہ الگ بات ہے کہ اللہ کو ہم پر ترس آ گیا اور اس نے ہماری نجات کی ایک صورت پیدا کردی۔

غور کریں تو گزشتہ انتخابات میں ایک معجزاتی عمل نظر آتا ہے۔آصف علی زرداری کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو عمران خان کے تعاون سے پیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار میں آجاتی،جس میں کچھ حصہ عمران خان اور مسلم لیگ(ق) کو بھی مل جاتا، پھر ملک جس صورت حال سے دوچار ہوتا، اس کا تصور بھی ہولناک ہے، لیکن اللہ کی قدرت نے نوازشریف کے سجدوں اور عجز کی لاج رکھ لی اور اسے حیرت انگیز طور پر بے مثال کامیابی سے نواز دیا۔اس کے سارے مخالف خائب و خاسر ہو گئے۔پیپلزپارٹی کا تین صوبوں میں صفایا ہوگیا اور وہ صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی، اے این پی اور مسلم لیگ(ق) مکمل شکست سے دوچار ہوئیں اور جماعت اسلامی خیبرپختونخوا تک سکڑ کر رہ گئی ، جبکہ پنجاب میں اسے بمشکل ایک صوبائی سیٹ ملی، وہ بھی مسلم لیگ(ن) کے تعاون سے۔

 جب سے میاں نوازشریف اقتدار میں آئے ہیں، وہ نہایت سرگرمی سے ملک کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور فکر مندی سے مسکرانا بھول گئے ہیں، انہیں خزانہ خالی ملا تھا اور ہمہ نوع کرپشن پورے عروج پر تھی۔ وہ چین گئے، سعودی عرب گئے، ترکی گئے، لیکن یوں لگتا ہے کہ امریکہ نے انہیں ہرطرف سے گھیر رکھا ہے اور اس کا عزم ہے کہ پاکستان دوسرا ترکی نہ بننے پائے اور اسے مسائل کے گرداب سے نہ نکلنے دیا جائے۔پھر حکومت اگر بجلی اور پٹرول مزید مہنگا کرنے پر مجبور ہو رہی ہے اور ڈالر کہیں کا کہیں پہنچ گیا ہے تو ہمیں حکومت کی مجبوریوں کا خیال کرکے اس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرنا چاہیے اور صبر اور ہوشمندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے، ایک ایسی قوم کی طرح جو حالتِ جنگ میں ہو.... لیکن بالکل درست ہے۔قرآن کا یہ فرمان کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔

میری ڈاکٹر افتخار وارث صاحب سے درخواست ہے کہ امید کا دامن ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑیں،جس ذاتِ اقدس نے ہمیں پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سے نجات دلائی ہے اور عمران خان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا، وہ یقیناً پاکستان سے کوئی خاص اور اہم کام لینا چاہتا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم صبر اور تحمل سے کام لیں، ذاتی اور اجتماعی اعمال کو درست کریں اور جن لوگوں پر قوم نے اعتماد کیا ہے، انہیں سکون سے کام کرنے دیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں،جنہیں قرآن کی زبان میں جب کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاﺅ تو وہ کہتے ہیں .... انما نحن مصلحون.... یعنی ہم تو فساد نہیں ،اصلاح چاہتے ہیں“.... (البقرہ آیت11)

ڈاکٹر صاحب کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ کینسر کا مریض چند مہینوں یا مختصر عرصے میں شفایاب نہیں ہوا کرتا، اس کے لئے لمبی مدت درکار ہوتی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ سابق حکمرانوں نے وطنِ عزیز کو کینسر ہی میں مبتلا کردیا تھا....موضوع کی مناسبت سے حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے مندرجہ ذیل اشعار جو بڑے ہی امید افزا ہیں اور ایمان افروز بھی۔محترم ڈاکٹر افتخار وارث کی نذر کررہا ہوں:

دیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالی

کوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی

خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی

گُل برانداز ہے خونِ شہدا کی لالی

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عناّبی ہے

یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

مزید : کالم